کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 870
شام کو سلطنت عثمانیہ سے اور بھی زیادہ قریب کر دیا تھا ان کو یہ بھی محسوس ہو چکا تھا کہ سلطان سلیم ضرور ان شہروں اور قلعوں کے واپس لینے کی کوشش کرے گا جو مملوکیوں نے سلطان بایزید ثانی سے چھین لیے تھے، ادھر شاہ اسمٰعیل صفوی نے سلطان سلیم سے شکست فاش کھانے کے بعد اپنے ایلچی مصر کے سلطان قالضوہ غازی کے پاس بھیجے اورعہدنامہ صلح قائم کرنا چاہا مملوکی امیر کو اسمٰعیل صفوی کے سفیر کی مدارات کرنے اور معاہدہ صلح کے قائم کرنے میں کوئی تامل نہ ہوا، اسمٰعیل صفوی کے سفیر نے قالضورہ غازی کو اور بھی زیادہ ان خطرات کی طرف توجہ دلائی جو سلطان سلیم سے سلطنت مصر کے لیے پیدا ہو سکتے تھے، ان مذکورہ و جوہات سے یا کسی اور سبب سے یہ ضرور ہوا کہ امیر کبیر قالضوہ غازی سلطان مصر خود شہر حلب میں آکر مقیم ہوا اور اس نے سرحد شام پر مناسب فوجیں فراہم و متعین کر دیں ، جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ سلطان سلیم ملک شام پر حملہ نہ کرے اور یہ بھی ہو سکتا تھا کہ موقع پا کر مملوکی سلطنت خود ایشیائے کوچک کے مشرقی حصہ پر حملہ آور ہو، بہرحال سلطان سلیم کا غالباً یہ خیال نہ تھا کہ وہ مملوکی سلطنت پر حملہ کرے، کیونکہ مملوکی بہت پابند شرع اور سلطان سلیم کے ہم عقیدہ و ہم مذہب تھے، مگر اسمٰعیل صفوی کی خفیہ تدابیر نے اس جگہ بخوبی کامیابی حاصل کی اور مملوکی بے چارے شاہ ایران کی چالاکی کے فریب میں آکر ناحق مارے گئے۔
سلطان سلیم ایران کی طرف سے واپس آکر قسطنطنیہ میں مقیم اور اندرونی انتظامات میں مصروف تھا اب اس کے لیے سوائے مغربی حدود اور عیسائی سلطنتوں کے اور کوئی چیز جاذب توجہ نہ تھی اس کے باپ دادا کئی پشتوں سے یورپ کے عیسائیوں سے دست و گریبان چلے آتے تھے، سلیم کے لیے سوائے یورپی ممالک کے اب کوئی علاقہ ایسا نہ تھا کہ وہ اس کا لالچ کرتا، لیکن ۹۲۲ھ میں اس کے پاس یکایک اس کے گورنر سنان پاشا کی ایک تحریر پہنچی (سنان پاشا ایشیائے کوچک کے مشرقی حصہ کا حاکم و سپہ سالار تھا) کہ میں آپ کے حکم کی تعمیل میں وادی فرات کی جانب فوج لے جانے سے اس لیے قاصر ہوں کہ سرحد شام پر مملوکی فوجیں موجود ہیں اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ میرے یہاں سے غیر حاضر ہوتے ہی وہ شاید ایشیائے کوچک کے مشرقی حصہ پر حملہ آور ہو جائیں ، اس تحریر کو پڑھ کر سلطان سلیم نے قسطنطنیہ میں اپنے تمام سرداروں ، عالموں اور وزیروں کو جمع کر کے ایک مجلس مشورت منعقد کی اور ان سے پوچھا کہ ہم کو مملوکیوں کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے، اس مسئلہ پر دیر تک گفتگو ہوتی رہی، آخر اس کے میر منشی محمد پاشا نے ایک پر جوش اور زبردست تقریر میں بیان کیا کہ سلطان عثمانی کو ضرور اپنی طاقت کا اظہار کرنا چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ مملوکی سلطان عثمانی کے سامنے ہرگز اس بات کے مستحق نہیں ہیں کہ وہ حرمین شریفین