کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 295
کے شہروں کو لوٹ مار سے برباد کیا، وہاں سے ہمدان آیا، یہاں بھی خوب فتنہ و فساد برپا کیا، لوگوں کو پکڑ کر سولی چڑھایا، قتل کیا، علماء کی داڑھیاں منڈوائیں ، پھر اصفہان پہنچ کر اس کا محاصرہ کیا، اسی اثناء میں بیمار پڑا اور ۱۶ رمضان ۵۳۲ھ کو بعض عجمیوں نے آکر چھریوں سے اسے قتل کر ڈالا۔ بغداد میں راشد کے قتل ہونے کی خبر پہنچی تو اس کے ماتم میں ایک دن کے لیے دفاتر بند کیے گئے، چادر اور عصا مرتے وقت راشد کے پاس تھے اس کے قتل ہونے پر یہ دونوں چیزیں مقتفی کے پاس بغداد پہنچائی گئی تھیں ۔ مقتفی لامر اللہ: ابو عبداللہ محمد مقتفی لامراللہ بن مستظہر باللہ ۱۲ ربیع الاول ۴۷۹ھ کو ایک حبشیہ ام ولد کے پیٹ سے پیدا ہوا، اور ۱۲ ذی الحجہ ۵۳۰ھ کو تخت نشین خلافت ہوا، اس کے بعد سلطان مسعود نے سلطان داؤد کی سرکوبی و تعاقب کے لیے فوج روانہ کی، داؤد نے مقام مراغہ میں شکست کھائی اور خوزستان پہنچ کر فوجیں جمع کیں اور تشتر کا محاصرہ کر لیا۔ سلجوق شاہ جو ان دنوں واسط کا حکمران تھا، سلطان مسعود کے حکم سے تشتر کو بچانے کے لیے روانہ ہوا، مگر داؤد سے شکست کھا کر واپس آیا، سلطان مسعود نے اس خیال سے بغداد کو نہ چھوڑا کہ کہیں راشد بغداد پر نہ چڑھ آئے، مسعود نے عمادالدین زنگی والی موصل کو لکھا کہ مقتفی کے نام کا خطبہ پڑھا جائے، عمادالدین نے جب مقتفی کے نام کا خطبہ پڑھا اور راشد کا نام خطبہ سے خارج کر دیا تو راشد ناراض ہو کر موصل سے رجب ۵۳۱ھ میں چل دیا جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، فارس میں بعض سرداروں نے راشد کی حمایت کا قصد کر کے راشد کے پاس جانے کا قصد کیا، سلطان مسعود نے یہ سن کر بغداد سے کوچ کیا اور ان لوگوں کو شعبان ۵۳۲ھ میں شکست دے کر پریشان و آوارہ کر دیا اور وہاں سے آذربائیجان کا قصد کیا۔ ادھر داؤد و خوارزم شاہ اور راشد نے مل کر عراق کا قصد کیا، سلطان مسعود نے ان کو شکست دی، خوارزم شاہ اور داؤد دونوں راشد سے جدا ہو گئے، راشد نے اصفہان کا محاصرہ کیا، اسی اثناء میں راشد کو چند خراسانی غلاموں نے قتل کر دیا، راشد اصفہان کے باہر مقام شہرستان میں مدفون ہوا۔ ادھر سلجوق شاہ نے واسط سے آکر بغداد پر قبضہ کیا، بڑی بد امنی پیدا ہوئی، اہل بغداد نے سلجوق شاہ کو شکست دے کر بغداد سے نکال دیا۔ ملک میں ہر طرف طائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی اور بد امنی یہاں تک ترقی کر گئی تھی کہ ۵۳۲ھ میں بغداد سے غلاف کعبہ بھی نہیں بھیجا گیا، راستوں کا امن و امان بالکل جاتا رہا۔ ۵۳۳ھ میں سلطان مسعود نے بغداد میں آکر بہت سے ٹیکس جو اہل شہر سے وصول کیے جاتے تھے معاف کر دیئے، چند سال اسی حالت میں گزرے، خاندان سلجوق کے متعدد افراد کے علاوہ دوسرے