کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 499
مولانا داؤد غزنوی: محتاج تعارف نہیں آج کل پنجاب اسملی کے ممبر ہیں اور ان کے دو صاحبزادے عمر فاروق اور ابوبکر ہیں ۔ اول الذکر نہایت نیک اور صالح نوجوان ہیں ۔ آج سے کچھ عرصہ قبل شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی جماعت مجاہدین چمرقنڈ میں شامل تھے۔ اور انگریزوں کے خلاف کئی معرکوں میں شریک جہاد ہوئے۔ ناشر بھی ان دنوں چمر قنڈ میں موجود تھا۔ مؤخر الذکر ابوبکر غزنوی آج کل اسلامیہ کالج لاہور میں پروفیسر ہیں ۔
مولانا عبدالواحد رحمہ اللہ : (امام ثالث) آپ کے صاحبزادے مولانا اسماعیل۔ مولانا عبدالحمید‘ مولانا ابراہیم‘ مولانا ولی ہیں ۔ مولانا اسماعیل غزنوی حاجیوں کی خدمت میں نمایاں حصہ لیتے ہیں ۔ اس منصب پر آپ مدت سے مقرر ہیں ۔ جب آپ مولانا عبدالواحد رحمہ اللہ کے ساتھ مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس منعقدہ ۱۹۲۶ء مکہ معظمہ تشریف لئے گئے تھے تو سلطان نجد و حجاز نے آپ کو حجاج کی خدمت کے لئے مقرر کر دیا مولانا اسماعیل کے صاحبزادے یہ ہیں ۔ خالد‘ (ڈاکٹر) طارق‘ قاسم ‘ عبدالواحد‘ ابراہیم‘ احمد‘ محمد‘ محمود‘ حسن۔
مولانا عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ :۔ کے چار صاحبزادے لاولد تھے مولانا عبدالرحمان‘ مولانا عبدالستار‘ مولانا عبدالحئی‘ مولانا عبدالقدوس۔
مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ بن عبداللہ: کے لڑکے عبدالاعلیٰ ہیں ۔
مولانا عبدالرحیم رحمہ اللہ : کے صاحبزادے مولانا یحییٰ۔ مولانا عیسی۔ حافظ ذکریا۔ مولانا موسیٰ۔ مولانا احمد اور نوح ہیں ۔ مولانا عبدالرحیم رحمہ اللہ موصوف اور مولانا عبدالواحد رحمہ اللہ صاحب تجارت کے سلسلہ میں عرب کے علاقہ نجد ریاض میں گئے۔ دونوں حضرات سے سلطان ابن سعود والئی نجد و حجاز کے والد بزرگوار سلطان عبدالرحمن نے کہا۔ کہ آپ ہمارے ہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کریں ۔ چنانچہ پانچ سال تک سلطان موصوف کے خاندان کو علم دین پڑھایا۔ اور دیگر اہل نجد بھی آپ کے علم سے فیضیاب ہوئے رحمہم اللہ علیہم اجمعین۔