کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 498
پھرانے کا فتوی صادر کیا۔ چنانچہ آپ کو اور آپ کے تینوں بیٹوں کو شہر میں پھرایا گیا۔ اور درے مارنے شروع کئے۔ جب وہ ظالم اس تشہیر اور زد و کوب سے فارغ ہوئے تو آپ کو بیٹوں سمیت قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔ دو سال تک قید رہے۔ جب امیر افضل خان مر گیا۔ تو اس کے بعد امیر اعظم خان تخت پر بیٹھا۔ اس ظالم نے بھی خاں ملا اور خان عبدالرحمن کے بہکانے پر آپ کا پشاور کی طرف نکال دیا۔ آپ کے دو شاگرد ملا سفر اور ملا مراد ہم سفر تھے۔ پشاور پہنچ کر تھوڑی مدت یہاں توقف فرمایا۔ اور بعد میں پنجاب کے شہر امر تسر میں مستقل قیام کیا۔ اور یہیں پر تازیست کتاب و سنت کی تبلیغ فرماتے رہے۔ اور آپ ماہ ربیع الاول ۱۲۹۸؁ھ کو رحلت فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ کا مرقد شہر امر تسر میں دروازہ سلطان ونڈ کے باہر عبدالصمد کاشمیری کے تالاب کے کنارے پر ہے۔ آپ کی اولاد: آپ کی اولاد۱۲صاحبزادے اور ۱۵صاحبزادیاں ہیں ۔ صاحبزادوں کے نام حسب ذیل ہیں ۔ مولانا عبداللہ رحمہ اللہ ۔ مولانا محمد رحمہ اللہ ۔ مولانا احمد رحمہ اللہ ۔ مولانا عبدالجبار رحمہ اللہ ۔ مولانا عبدالواحد رحمہ اللہ ۔ مولانا عبدالرحمان رحمہ اللہ ۔ مولانا عبدالستار رحمہ اللہ ‘ مولانا عبدالقیوم رحمہ اللہ ‘ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ ‘ مولانا عبدالحئی۔ مولانا عبدالقدوس۔ مولانا عبدالرحیم یہ سب کے سب محدث تھے۔ مولانا عبداللہ رحمہ اللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ : (امام اول) آپ کی اولاد میں سے حافظ عبداللہ اسلامیہ کالج پشاور میں پروفیسر ہیں اور ان کے لڑکے احمد غزنوی ہیں جو آجکل حیدر آباد سندھ میں سیشن جج ہیں ۔ مولانا محمد رحمہ اللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ : ان کی اولاد ہیں ۔ مولانا عبدالاول اور مولانا عبدالغفور ہیں ۔ موخر الذکر نے غزنوی حمائل شائع کی۔ مولانا احمد رحمہ اللہ : کی اولاد حکیم عبدالشافی اور مولانا عبدالوارث ہیں ۔ مولانا عبدالجبار رحمہ اللہ : (امام ثانی) آپ کے صاحبزادے۔ مولانا احمد علی۔ مولانا داؤد۔ حافظ سلیمان۔ مولانا عبدالغفار اور حافظ عبدالستار ہیں ۔