کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 497
پتہ چلا ۔ تو ایک لشکر جرار سے آپ پر چڑھائی کر دی۔ آپ کا گھر جلا دیا۔ اور آپ کے چند معتقدوں کو زخمی کر گئے۔ آپ کو وہاں سے بھی نکلنا پڑا۔ اہل و عیال سمیت پہاڑوں میں جگہ جگہ پھرتے رہے۔ جس جگہ آپ جاتے۔ مخالف علماء وہاں سے آپ کو نکلوا دیتے۔ آپ کو کہیں بھی سکون حاصل نہ ہوا۔ امیر دوست محمد خان فوت ہو گیا۔ اور اس کا بیٹا شیر علی خان تخت نشین ہوا۔ مولانا عبداللہ رحمہ اللہ نے خیال کیا۔ کہ شاید حالات پرسکون ہو گئے ہوں پھر وطن چلے گئے علماء نے اس کے پاس بھی شکایت کر دی۔ اس نے آپ کو حکم دیا کہ ہماری ولایت سے باہر ہو جاؤ۔ آپ حیران ہوئے کہ اب کس طرف جاؤں ۔ اتفاق سے اس وقت کابل میں بغاوت ہو گئی۔ اور شیر علی خان تخت چھوڑ کر ہرات چلا گیا۔ پھر محمد افضل خان اور محمد اعظم خان کو سلطنت ملی۔ علماء سو نے مولانا کے خلاف ان کو بھی اکسایا۔ محمد افضل خان نے مقر کے حاکم کے ذریعہ مولانا کو گرفتار کرایا اور آپ کو مع اسباب اور کتابوں کے سردار محمد عمر خان پسر دوست محمد خان کے پاس حاضر کیا۔ آپ کے فرزندوں میں سے مولوی عبداللہ رحمہ اللہ ‘ مولوی محمد اور مولوی عبدالجبار رحمہ اللہ صاحبان اس وقت آپ کے ہمراہ تھے۔ سردار موصوف آپ کا نورانی چہرہ دیکھ کر نرم ہو گیا ادب سے بولا۔ آپ کیوں نہیں اس طریقہ کو چھوڑ دیتے۔ جو کچھ وقت کے مولوی کرتے ہیں ان کے ساتھ شامل ہو جائیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ کتاب و سنت کو جاری کیا جاوے۔ سردار پر آپ کی باتوں کا بہت اثر ہوا۔ چنانچہ اس نے امیر کابل کے نام خط لکھا کہ حسب الحکم آپ کے میں نے اس شخص کو گرفتار کیا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ شخص صالح اور فقیر ہے۔ اور اسباب دنیا سے متنفر ہے جو کچھ حکم ہوا رقام فرماویں ۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ ان کو کابل پہنچا دو۔ سردار نے ان کو اسی وقت کابل کی طرف چند سواروں کے ہمراہ روانہ کر دیا۔ ملا مشکی اور ملا نصراللہ وغیرہ نے کابل کے پاس جا کر کہا۔ کہ امیر دوست محمد خان کے وقت میں ہم اس شخص کا کفر ثابت کر چکے ہیں ۔ اب دوبارہ تحقیق کی حاجت نہیں ۔ امیر کی مرضی سے سب نے متفق ہو کر درے مارنے اور گدھے پر سوار کر کے شہر میں