کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 496
کوئی جزئی فقہ کی جزئیات سے حدیث کی مخالفت ہوتی۔ تو اسے چھوڑ دیتے اور فرما دیتے۔ تعجب ہے۔ صحیح حدیث جو چند واسطوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتی ہے ترک کی جاوے اور اس کے خلاف فقہ کا قول جس کے نقل کرنے والے مفتی اور قاضی ہیں ۔ وہ بھی معلوم نہیں کہ کس واسطے سے ان کے پاس پہنچا ہے عمل کیا جاوے۔ چنانچہ آپ نے تشہد میں رفع سبابہ۔ رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع یدین۔ آمین۔ بالجہر۔ فاتحہ خلف امام پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ اور نماز بھی اول وقت خشوع خضوع سے پڑھتے۔
توحید و سنت کی تبلیغ ۔ شرک و بدعت کی تردید۔ لوگوں کی مخالفت اور جلا وطنی: آپ نے توحید و سنت کی تبلیغ اور شرک و بدعت کی تردید شروع کر دی۔ علاقہ کے عالم اور عوام آپ کے مخالف ہو گئے۔ امیر کابل دوست محمد خان سے آپ کی شکایتیں کیں ۔ آپ کی مخالفت میں نمایاں حصہ لینے والے خان ملادرانی۔ ملا مشکی ارنڈی اور ملا نصراللہ لوبانی تھے۔ امیر کابل نے ان لوگوں کے خوش کرنے کے لئے آپ کو وطن سے نکال دیا۔
غزنی سے رخصت ہو کر آپ سوات بنیر پہنچے۔ وہاں سے کوٹھ۔ پھر ہزارہ۔ پنجاب اور وہاں سے دہلی تشریف لے گئے۔ یہاں آپ نے سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ سے حدیث کی سند حاصل کی۔ انہی دنوں ۱۸۵۷ء بمطابق ۱۶رمضان المبارک ۱۲۷۲ھ کو آزادی کی جدوجہد جسے غدر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے شروع ہو گئی۔ دہلی سے سند حاصل کر کے آپ پنجاب تشریف لائے۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد براستہ ڈیرہ اسماعیل خان وطن واپس چلے گئے۔ یہ امید لے کر کہ شاید امیر کابل کا خیال بدل گیا ہو۔ ایک ماہ کے قیام کے بعد یکا یک امیر کابل کے سوار آپ کے اخراج کے پروانہ لے کر پہنچے۔ آپ وہاں سے نکل کر ملک ناوہ میں چلے گئے۔ امیر نے وہاں بھی آپ کو رہنے نہ دیا۔ اور معہ اہل و عیال یاغستان کے پہاڑوں میں نکال دیا۔ آپ نے اسی علاقہ میں سکونت اختیار کر کے توحید و سنت کی تبلیغ شروع کر دی۔ ناوہ کے علماء کو جب