کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 491
(۳) لوامع الانوار فی عقائد الابرار: اس میں بعض معترضین نے اہل حدیث کے عقائد و اعمال پر جو اعتراض کئے ہیں ۔ ان کا جواب دیا گیا ہے۔
(۴) شمس الضحی: بعض معترضین کے اعتراضات کے جواب میں ہے۔
(۵) شھاب ثاقب: تقویۃ الایمان کی بعض عبارتوں پر جو اعتراض کے لئے ہیں ان کے جواب میں ہے یہ سب کتابیں اردو میں ہیں ۔
(۶) القول الفصیح: اس کتاب میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا ثابت کیا گیا ہے یہ عربی زبان میں ہے۔ حاشیہ پر اس کا اردو ترجمہ بھی درج ہے۔
امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کے متعلق اہل حدیث اور احناف کی طرف سے بہت سی کتابیں لکھیں گئی ہیں ۔ طرفین کی جو کتابیں دیکھنے میں آئی ہیں میرے ناقص علم میں ان سب میں حضرت مولانا ممدوح کی کتاب القول الفصیح سب سے زیادہ نافع اور مفید ہے۔
(۷) انیس الغریب: غیر مطبوعہ۔ کس کا مسودہ مولانا صاحب نے مجھے عنایت فرمایا تھا۔ اس میں خطبہ جمعہ کا جواز غیر عربی زبان میں ثابت کیا گیا ہے۔ انشاء اللہ اس کو چھپوا کر شائع کر دیا جائے گا۔
آپ پر ذوق تصوف غالب تھا۔ آپ کے چہرہ مبارک کا اتنا جلال تھا۔ کہ اہل ثروت بلکہ حاکم تک آپ کو اپنی مجلسوں میں نہیں بلا سکتے تھے۔ بلکہ آپ کی مجلس میں خود حاضر ہونے کو سعادت جانتے تھے۔
وفات: جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات۔ بوقت عشاء بتاریخ ۱۸جنوری ۱۹۱۸ء کو داعی اجل ہوئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
آپ کا جنازہ مولانا عبدالحکیم صاحب سیالکوٹی مرحوم کے مقربہ کے قریب کھلے میدان میں ہوا۔ جس میں بکثرت ہجوم تھا۔ تمام فرقوں کے لوگ بلا امتیاز شامل تھے۔
آپ کے دو صاحبزادے مولوی عبداللہ و عبدالواحد اور ایک بیٹی اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ سلامت ہیں ۔