کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 490
شمس العلماء مولانا میر حسن صاحب مرحوم جن کا ذکر خیر حافظ عبدالمنان صاحب مرحوم کے ذکر میں آچکا ہے۔ وہ مولانا صاحب کے پڑوس میں رہتے تھے۔ ان کو حضرت مولانا سے کمال عقیدت تھی۔ اور عام طور پر نمازیں بھی آپ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
آپ خوش طبع اور بے تعصب تھے۔ اتباع سنت میں آپ کا عمل نہایت پختہ تھا۔ تمام بزرگان دین کا نہایت ادب کرتے تھے۔ اور اختلافی مسائل میں یا تو صورت جامعہ پر عمل کرتے۔ یا اس صورت پر جو اقرب الی السنہ ہو۔ اور معرکتہ الارا اختلافی مسائل میں جن میں نص صریح سے فیصلہ نہ ہو سکتا ہو اپنی طرف سے اجتہاد کرنے سے بہت گریز کرتے تھے۔ اور اپنی رائے محفوظ رکھتے ہوئے مسائل کے سامنے اختلاف ائمہ بیان کر کے ہر ایک کی دلیل بیان کر دیتے اور اس کو انہی کے ذمہ پر چھوڑ دیتے‘ اور فرماتے‘ کہ اپنی طرف سے قول پیدا کر کے ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی نسبت ائمہ کا قول ذکر کر دینے میں اپنی سبکدوشی ہے اور بس۔[1]
فتویٰ میں حق گوئی یہاں تک مسلم تھی۔ کہ دیگر فرقوں کے لوگ بھی اپنے علماء کی نسبت مولانا صاحب کی طرف زیادہ رجوع کرتے۔ اور آپ کا طریق تفہیم اس قدر موثر تھا۔ کہ شدید مخالف لوگ بھی آپ کی مجلس سے معتقد ہو کر اٹھتے۔ دوسرے فرقوں کے لوگوں کی زبان پر عام طور پر مشہور تھا۔ اگر مولانا صاحب اس درجہ کے متقی نہ ہوتے تو اہل حدیث کا مذہب سیالکوٹ میں اتنی جلدی نہ پھیلتا۔
تصانیف: آپ نے اپنی ابتدائی عمر میں چند رسائل ضرورتا تصنیف کئے جو انداز بیان سے از بس مفید ہیں ۔ اور وہ یہ ہیں :۔
(۱‘۲)کتاب الصلوٰۃ: جو سادہ طور پر سنت کے مطابق نماز کی تعلیم کے متعلق ہے۔ اس کے حاشیہ پر ایک رسالہ نابالغ حافظ قرآن کی اقتدا میں نماز تراویح کے جواز میں لکھا ہے۔
[1] اپنے استاد مرحوم کی اقتدا میں اس عاجز کا بھی یہی مسلک ہے۔