کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 489
غلام مرتضی صاحب کے حلقہ درس میں شامل ہوئے۔ جن کا حلقہ درس شہر سیالکوٹ اور دیگر متصلہ شہروں میں مشہور تھا۔ آپ کی طبیعت نہایت ذکی اور حافظہ نہایت قوی تھا۔ تھوڑی ہی مدت میں نصاب تعلیم ختم کر کے اپنے استاز معظم کی وفات کے مسند درس پر جلوہ افروز ہوئے۔ علم حدیث کی سند آپ نے کتابتاً حضرت نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ طبیعت نہایت برد بار اور با مذاق تھی۔ جو شخص آپ کی زیارت کی سعادت حاصل کرتا اور ایک نماز بھی آپ کے ساتھ پڑھ لیتا مدتوں اس سے لطف اندوز رہتا۔ کہ کاش پھر بھی یہ سعادت حاصل ہو۔ حافظہ کی قوت ایسی تھی کہ جس کتاب کا بھی کوئی صفحہ ایک دفعہ دیکھا ہے عمر بھی اس کو دیکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ یہ عاجز اپنی ابتدائی عمر میں مولانا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اخیر یوم وفات تک آپ کی خدمت میں رہا۔ اتنے عرصہ میں میں نے آپ کو کسی کتاب کا مطالعہ کرتے نہیں دیکھا۔ ہر دم تسبیح ہاتھ میں لے کر ذکر الٰہی میں مشغول رہتے۔ گویا آپ حدیث لایزال لسانک رطبا من ذکر اللہ (حصن حصین) کی زندہ تصویر تھے۔ طلبہ کے سبق کے وقت کتاب سامنے نہیں رکھتے تھے۔ البتہ صبح کی نماز کے بعد درس قرآن کے وقت تفسیر جامع البیان سامنے رکھتے اور بڑے بڑے مشکل مسائل سادہ الفاظ میں سمجھا دیتے۔ آپ کے طریقہ تعلیم اور حلقہ درس کی شہرت عام تھی۔ آپ کے شاگرد دور دراز تک پھیلے ہوئے تھے۔ جن میں سے اب عاجز کی طرح خال خال باقی ہوں گے۔ بعض متشدد لوگ بھی آپ کی خدمت میں آتے اور باوجود آپ سے علم حاصل کرنے کے نماز میں آپ کے شریک نہ ہوتے تھے۔ مگر مولانا ان سے کچھ تعرض نہ کرتے۔ لیکن کچھ مدت کے بعد ان پر ایسا رنگ چڑھتا۔ کہ وہ سنت کے پورے تابعدار ہو جاتے۔