کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 487
چنانچہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایسے متشدد شاگرد رو رو کر آپ کے پاؤں پر گر پڑتے اور اپنی خطائیں معاف کراتے۔
وعظ و تذکیر کے بیان میں اس قدر زور تھا یہی معلوم ہوتا کہ علم حدیث کا دریا بہہ رہا ہے۔ حاضرین پر اس کا خاص اثر ہوتا تھا۔
شمس العلماء مولانا میر حسن صاحب سیالکوٹی (جو میرے اور ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم کے بھی استاد تھے) کو جناب حافظ صاحب مرحوم سے کمال عقیدت تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ حافظ صاحب میں ایک خاص کمال ہے کہ مسائل میں آپ متشدد اور تنگ ظرف نہیں ہیں اور اگر سوال جواب کے سلسلہ میں اپنی بات سے رجوع بھی کرنا پڑے تو ہچکچاتے نہیں ۔
آپ کے حلقہ درس کی وسعت: آپ کے شاگرد نہ صرف پنجاب بلکہ ہندوستان و پاکستان کے اکثر شہروں اور دیہات میں پائے جاتے ہیں ۔ چنانچہ مدراس‘ دہلی‘ کلکتہ‘ رنگون اور دوسرے مشہور شہروں میں آپ کے بہت سے شاگردوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں جن میں سے بعض میرے زمانہ تعلیم سے پیشتر آپ سے علم حدیث کی تکمیل کر چکے تھے۔ سید ابوالحسن صاحب تبتی صحیح مسلم میں میرے ہم درس تھے۔ علاقہ نجد کے ایک شاگرد کی سند آپ کے حکم سے میں نے خود لکھی اور اس پر آپ کی مہر لگائی۔
مرض الموت: مرض الموت میں آپ نے مجھے اور میرے عم زاد بھائی مولوی احمد دین صاحب سیالکوٹی کو بلایا اور کہا کہ میرا کتب خانہ اس مسجد میں تدریس حدیث میں استعمال کیا جائے۔ یہ وقف ہے۔ میری اولاد میں سے کسی کو اس کی ملکیت کا حق نہ ہو گا۔ اگر یہاں درس قائم نہ رہے تو یہ کتب خانہ دہلی میں اہل حدیث کانفرنس کی تحویل میں دے دیا جائے۔
اس کے بعد آپ نے گھر سے ململ کی ایک پرانی دستار منگوا کر فرمایا کہ میاں صاحب مرحوم نے مجھے یہ عنایت فرمائی تھی اس کو میرے کفن میں استعمال کرنا۔ آپ