کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 486
آپ نے مجھ عاجز سے ذکر کیا کہ ایک دفعہ موسم سرما میں میرے پاس کوئی گرم کپڑا موجود نہیں تھا۔ میں مسجد میں بیٹھا بغلوں میں ہاتھ دبائے سردی کی شدت سے ٹھٹھر رہا تھا اور تہجد کے وقت یاد خدا میں مشغول تھا کہ اس وقت کسی نا معلوم شخص نے پشمینہ کا ایک کابلی دھسہ مجھ پر ڈال دیا جس سے میرا بدن گرم ہو گیا۔
وہ دھسہ مدت تک آپ کے پاس دیکھا جاتا رہا۔ لیکن اوڑھانے والے کا پتہ نہ لگ سکا۔
انسانوں کے علاوہ جنات نے بھی آپ سے علم حدیث حاصل کیا۔ اس امر کے بھی کئی واقعات آپ نے خود مجھ سے ذکر فرمائے۔
آپ اپنے شاگردوں پر خصوصی نظر الفت رکھتے اور ان کی دلداری میں ہر طرح سعی فرماتے۔ مولانا ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری مرحوم اور اس عاجز پر خصوصی نظر عنایت تھی۔ اس بات کی شہادت آپ کا ہر شاگرد دے سکتا ہے۔
آپ کی تدریس حدیث کا شہرہ اس قدر بلند ہوا کہ آپ کے پاس علم حدیث کی تحصیل و تکمیل کے لئے ایسے ایسے علماء بھی آتے رہے جو دیگر فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔
آپ کی بے تعصبی: آپ ائمہ دین کا بہت ادب کرتے تھے۔ چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ائمہ دین اور خصوصاً امام ابو حنفیہ رحمہ اللہ کی بے ادبی کرتا ہے۔ اس کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا۔ بعض متشدد لوگ آپ سے حدیث پڑھنے آتے مگر یہ شرط کر لیتے کہ حدیث تو آپ سے پڑھیں گے لیکن نماز آپ کے پیچھے ادا نہیں کریں گے۔ آپ اس شرط کو بخوشی منظور فرما لیا کرتے۔
بعض عقیدت مند مقتدی اس پر سوال کرتے کہ آپ ایسے لوگوں کو کیوں پڑھاتے ہیں جو نماز میں آپ کی اقتدا پسند نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں آپ فرماتے کہ بھائی یہ ان کی نگاہ انتخاب ہے۔ انہوں نے مجھے جس قابل پایا اس کا فائدہ اٹھانا چاہا۔ اگر ان کی قسمت میں سعادت لکھی ہے تو اللہ تعالی ان کو اتباع سنت کی راہ دکھا دے گا۔