کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 485
میں ہوئی ہے۔
حصول تعلیم: سات سال کی عمر میں آپ کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے مسجد میں بٹھایا گیا۔ مگر ۹سال کی عمر میں نزول الماء کے عارضہ سے آپ آنکھوں سے بالکل معذور ہوگئے۔ اسی حالت میں تحصیل علم کے لئے مختلف بلاد کا سفر کرتے رہے۔ گجرات کاٹھیا واڑ بمبئی ریاست بھوپال کے سفر کے بعد آخر کار آپ دہلی میں حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیگر علوم کے ساتھ علم حدیث کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
آپ کا حافظہ نہایت قوی تھا۔ اس کے متعلق مجھے چشم دید حالات اور حافظ صاحب موصوف کے بیان فرمائے ہوئے بہت سے واقعات معلوم ہیں مگر بخوف طوالت اس مختصر ترجمہ میں ان کو بیان نہیں کر سکتا۔
آپ کو علم حدیث کے ساتھ ایک نادر عشق تھا۔ چنانچہ تدریس کے وقت جو کیفیت آپ پر طاری ہوتی تھی اس کا اثر اہل ذوق طلبہ پر بھی پڑتا تھا۔ اس کے بھی بہت سے واقعات ہیں ۔
آپ فرماتے تھے کہ میری عمر بیس برس کی تھی جب جناب عبداللہ صاحب غزنوی نے مجھے امر تسر میں درس حدیث کی مسند پر بٹھایا۔ چنانچہ کچھ عرصہ تک میں امرتسر میں درس حدیث دیتا رہا۔ اس کے بعد وزیر آباد آیا۔ ابتداء میں یہاں بعض لوگوں نے شدت سے میری مخالفت کی۔ چنانچہ بعض اوقات مجھے گٹھڑی کی طرح باندھ کر باہر کھیتوں میں پھینک دیا جاتا۔ میں پھر شہر میں آجاتا۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ نے اکثر لوگوں کو میرا عقیدت مند بنا دیا۔
صورت و سیرت: آپ کے چہرہ پر وجاہت اور ہیبت نمایاں تھی۔ لحیم جسیم اور صاحب قوت تھے۔ آپ کی آواز بلند۔ مزاج سادہ اور صاحب قناعت بزرگ تھے۔ لباس اور خوراک جیسی میسر آئی پہن لی اور کھالی۔ طبیعت میں تکلف ہرگز نہیں تھا۔ اپنی حاجت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کے سامنے بیان نہیں کرتے تھے۔