کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 453
حاجی محمد افضل رحمہ اللہ صاحب سیالکوٹی افسوس ہم کو اس پاک و مبارک وجود کے حالات مفصل نہیں ملے۔ جن کے نام نامی سے ہم (سیالکوٹی) فخر کر سکتے ہیں ۔ جو کچھ ملتا ہے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور جناب مرزا مظہر جانجاناں (علیہما رحمۃ) کے حالات میں تبعاً ملتا ہے کہ ان ہر دو بزرگواروں نے آپ سے علم حدیث حاصل کیا[1]اور آپ نے شیخ عبداللہ بن سالم بصری مکی رحمہ اللہ سے اور اسی نسبت سے ہم نے آپ کے ذکر خیر سے اپنی اس کتاب کو زیب دینا چاہا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ اور جناب مرزا مظہر جانجاناں شہید رحمہ اللہ ایسے لوگوں کا آپ کے سلسلہ تلمذ میں ہونا آپ کی افضلیت اور اسم با مسمی ہونے کی بین دلیل ہے۔ حضرت شاہ غلام علی صاحب رحمتہ اللہ علیہ آپ کی بغائت تعریف کرتے ہیں چنانچہ مقامات مظہریہ میں فرماتے ہیں ۔ ایشاں از علمائے متبحر و فضلائے دانشور نداز اسرار معارف علوم باطن خطے و افرد ارند طریقہ از حجتہ اللہ نقشبند فرزند و خلیفہ حضرت ایشاں محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہما گرفتہ تادہ سال استفادہ فیوض باطن نمودند و تاد وازدہ سال از حضرت شیخ عبدالاحد فرزند و خلیفہ خازن الرحمۃ شیخ محمد سعید فرزند سجادہ نشین حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہم مشرف گردیدہ بمقامات عالیہ رسیدہ اندوتہصیل علوم معقول و منقول
[1] چنانچہ حضرت شاہ صاحب اپنی کتاب القول الجمیل کے اخیر پر اپنی سند علم حدیث کے ذکر میں فرماتے ہیں ۔ واجازنی مشکٰوۃ المصابیح و صحیح البخاری وغیرہ من الصحاح الست الثقۃ الثبت حاجی محمد افضل عن الشیخ عبدالاحد عن ابیہ الشیخ محمد سعید عن جدہ شیخ الطریقۃ الشیخ احمد السھرندی بسندہ الطویل المذکور فی مقاماتہ ترجمہ: اور مجھ کو اجازت دی مشکوٰۃ المصابیح اور صحیح بخاری وغیرہ صحاح ستہ کی معتمد ثابت القول حاجی محمد افضل نے شیخ عبدالاحد سے انہوں نے اپنے والد شیخ محمد سعید سے انہوں نے اپنے دادا شیخ طریقت شیخ احمد سرھندی سے ان کی سند طویل مذکور ہے۔ ان کے مقامات اور تصانیف میں ۔