کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 448
کو طعام اشراف[1]کہتے ہیں ۔ ہر چند کہ فقہاء کے نزدیک اس کا کھانا جائز ہے اور شریعت میں بعد تین روز (کے فاقہ) کے مردار بھی حلال ہے لیکن فقراء کے طریقہ میں طعام اشراف جائز نہیں ہے۔ میں نے جب یہ بات سنی تو بلا چون و چرا اٹھ کھڑا ہوا اور طعام اٹھا کر لے کر دروازہ کے باہر آگیا۔ کچھ دیر توقف کر کے وہ طعام لئے ہوئے پھر حاضر خدمت ہوا اور عرض کی کہ جب بندہ طعام اٹھا کر لے گیا تھا۔ تو کیا حضرت کو توقع تھی کہ میں یہ طعام پھر واپس لاؤں گا؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ میں نے عرض کیا کہ اب جب کہ یہ طعام بندہ حضرت کی توقع کے بغیر لایا ہے تو یہ طعام اشراف نہ رہا۔ حضرت میر صاحب میری اس توجیہ پر بہت محظوظ ہوئے۔ اور فرمانے لگے تو نے عجب فراست کی ہے پھر آپ نے وہ طعام برغبت تمام تناول فرما لیا۔ (۲) نیز استاد المحققین فرماتے تھے کہ سلطان اورنگ زیب عالمگیر (انار اللہ برہانہ) کی پیش گاہ سے علامہ مرحوم میر عبدالجلیل بلگرامی[2]کی تعیناتی بخشی گیری اور وقائع نگاری کی خدمت پر گجرات شاہ دولہ[3] (پنجاب) میں ہوئی۔ تو آپ دکن سے بلگرام میں تشریف
[1] اشراف۔ نفس کے جھکاؤ کو کہتے ہیں ۔ اہل طریقت بزرگ دنیا کے لذائذ کو نفس کے جھکاوے استعمال نہیں کرتے بلکہ بغیر اس کے جو کچھ میسر آوے اس کو نعمت الٰہی سمجھ کر استعمال کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں ۔ نفس کے جھکاؤ کے سوا حاصل شدہ کو قبول کرنا اہل طریقت نے اس حدیث سے لیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ عطا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اعطہ افقرمنی حضور یہ مال کسی زیادہ حاجتمند کو عطا کیجئے۔ اس پر آنحضرت نے فرمایا ما اعطیت من غیر اشراف نفس الخ یعنی جو کچھ تجھ کو نفس کے جھکاؤ کے سوا دیا جائے اس کو لے لے۔ پھر اسے خود صرف کر یا صدقہ کر دے تیرا اختیار ہے (صحیح بخاری ملخصاً) حضرت میر صاحب نے جب اپنا فاقہ اپنے شاگرد استاد المحققین کے پاس ذکر کر دیا اور وہ فورا طعام لذیذ تیار کرا کے لے آئے تو اس میں آپ کے خیال میں اشراف نفس پایا گیا۔ اس لئے اس کے کھانے سے پرہیز کی۔ استاد المحققین صاحب علم و معرفت تھے سمجھ گئے اور باہر جا کر کچھ دیر توقف کر کے وہی کھانا واپس لائے تو اس میں حضرت میر صاحب کا اشراف نفس نہ تھا اس لئے تناول فرما لیا۔ سبحان اللہ۔ [2] میر عبدالجلیل مرحوم حسان الہند میر غلام علی آزاد مصنف ماثر الکرام کے نانا تھے۔ آپ بھی استاد المحققین کی طرح میر مبارک صاحب کے شاگرد تھے (ان کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا) [3] حضرت شاہ دولہ ایک فقیر ہوئے ہیں ۔ ان کا مقبرہ شہر گجرات پنجاب کے مشرقی دروازہ کے باہر زیارت گاہ ہے۔ شہر سیالکوٹ میں ندی پر جو پل ہے وہ بھی اور عید گاہ کلاں بھی انہی فقیر صاحب کی یادگار ہے۔