کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 440
علم حدیث کے اسماء کی حرکات کا ضبط نہایت ضروری ہے۔ اس کے متعلق ایک کتاب بنام مغنی لکھی جو دہلی میں تقریب التہذیب کے ساتھ مکرر چھپ چکی ہے[1]اسی طرح علم حدیث کی حل لغات میں مجمع بحار الانوار جو نہایت مشہور کتاب ہے۔ مفید و قابل قدر یاد گار چھوڑی۔ جو تین جلدوں میں ہندوستان میں مکرر چھپ چکی ہے۔ یہ کتاب فائق زمخشری اور نہایہ ابن اثیر کی جامع ہے۔ الحمدللہ کہ خاکسار کے پاس یہ سب کتابیں موجود ہیں (نفعنی اللّٰہ بہا فی الدنیا والاخرہ) شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ ولادت ۹۵۸؁ھ وفات ۱۰۵۲؁ھ شیخ محمد طاہر صاحب پٹنی کے بعد اسی زمانے میں علم حدیث کی خدمت کا تمغہ شیخ عبدالحق صاحب دہلوی کے بازو پر ہے۔ آپ قوم ترک سے ہیں ۔ آپ کے والد کا نام سیف الدین ہے جو شاہ عالی جاہ شاہجاں مرحوم کے وقت دہلی میں متوطن ہوئے اور یہیں ہمارے شیخ صاحب ۹۵۸؁ھ میں پیدا ہوئے۔ اپنے وطن دہلی سے بائیس سال کی عمر میں تحصیل علوم کے بعد زیارت حرمین سے مشرف ہوئے اور کئی سال تک فن حدیث کی تکمیل[2]کے بعد وطن کو مراجعت کی اور اس فن کی خدمت کرنے لگے۔ چنانچہ لمعات شرح عربی مشکوٰۃ اور اشعۃ اللمعات شرح فارسی
[1] اس کے بعد خاتمہ پر ایک فصل تواریخ میں مقرر ہے۔ جس میں عموماً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے اربعہ اور ائمہ اربعہ اور بعض دیگر اجلہ محدثین رحمہم اللہ اجمعین کے سنہ ولادت اور وفات لکھنے پر اکتفا کیا ہے۔ اس فقیر نے اس پر کچھ زیادہ کر کے اس کا نام اثمارا شماریخ فی تفصیل التواریخ نام کتاب شروع کر رکھی ہے خدا اپنے فضل سے اختتام کو پہنچائے۔ یہ کتاب ایسے حال میں لکھ رہا ہوں کہ بینائی نہایت کمزور ہو گئی ہے۔ اللّٰہم متعنی بسمعی و بصری و اجعلہما الوارث منی۔ خاکسار گنہگار میر سیالکوٹی جنوری ۱۹۵۲ء مطابق ۱۶ ربیع الثانی ۱۳۷۱ھ۔ [2] حضرت نواب صاحب مرحوم ابجد العلوم میں فرماتے ہیں رحل الی الحرمین و صحب الشیخ عبدالوھاب المتقی خلیفۃ الشیخ علی المتقی و اکتسب علم الحدیث و عادالی الوطن و استقربہ اثنتین و خمسین سنۃ بجمعیۃ الظاھر و الباطن و نشر العلوم (صفحہ۹۰۱) یعنی بائیس سال کی عمر میں حرمین شریفین کا سفر کیا اور شیخ علی متقی کے خلیفہ شیخ عبدالوہاب کی صحبت میں رہے اور ان سے علم حدیث حاصل کیا اور اپنے وطن کی طرف لوٹے۔ اور باون سال