کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 437
رسالہ ہے۔ اسی طرح اپنی کتابوں اور رسالوں کے نام لے کر ہر ایک کو نہر اور نالی سے معین کرتے تھے۔ (اتحاف النبلاء صفحہ۳۲۶)
اھل علم و فضل کی قدر دانی: شیخ شیخنا حضرت نواب صاحب مرحوم ملا علی قاری کے حال میں فرماتے ہیں کہ زاد المتقین میں شیخ علی متقی رحمہ اللہ کے ذکر میں لکھا ہے کہ اہل عجم سے ایک آدمی تھا۔ نہایت خوشخط۔ اس کو ملا علی قاری کہتے ہیں ۔ اس کی فضیلت اور اہلیت اور افلاس کو دیکھ کر میں نے اس سے تفسیر جلا لین دس جدید پر خریدی۔ اس پر بھی فرماتے تھے کہ (ملا علی قاری رحمہ اللہ ) نے عجب محنت اٹھائی ہے۔ اس سے زیادہ (قیمت) پر بھی خرید سکتے ہیں ۔ حالانکہ تفسیر مذکور اہل مکہ کے خط سے ایک جدید کو دستیاب ہو جاتی تھی (اتحاف النبلاء صفحہ۳۲۶)
وفات: آپ نوے سال کی عمر میں ۹۷۵ھ میں مکہ شریف میں فوت ہوئے۔ تاریخ وفات شیخ مکہ ہے شیخ عبدالوہاب شعرانی مصری[1] (رحمتہ اللہ علیہ) طبقات کبریٰ میں فرماتے ہیں ۔
[1] شیخ عبدالوہاب شعرانی مذکور الفوق عبدالوہاب (پیر و مرشد شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ ) کے سوا دوسرے بزرگ ہیں ۔ آپ دسویں صدی کے مصری مشائخ طریقت میں سے ہیں ۔ شافعی المذہب تھے۔ شریعت و طریقت ہر دو کے جامع تھے۔ صاحب کرامت تھے۔ ائمہ دین اور بزرگوں کا ادب ملحوظ رکھتے تھے۔ بالخصوص امام اعظم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بہت ادب کرتے تھے۔ ان کے حق میں بے ادبی کرنے والے کو بہت برا جانتے تھے۔ بلکہ اگر ایسے گستاخوں پر کوئی بلا نازل ہو تو ان کی عیادت بھی نہیں کرتے تھے۔ اختلافات ائمہ میں ان کی روش معتدل ہے۔ جہاں تک ہو سکے ان کے اقوال کی توجیہ بیان کر کے ان کے اختلافات کو جمع کرتے ہیں ۔ اس امر میں ان کی کتاب میزان کبریٰ مشہور ہے۔ الحمدللہ اس فقیر کے پاس موجود ہے۔ صاحب تصانیف تھے۔ ان کی سب تصانیف مفید اور مقبول علماء ہیں ۔ مجھ زلہ ربائے کو ان سے کمال عقیدت ہے۔ ۱۳۳۰ھ کے سفر حج کے ضمن میں (دیگر بلاد اسلامیہ کا سفر بھی کیا تھا۔ مصر‘ حیفا‘ یافا‘ مذمرین‘ بیت المقدس اور دمشق) مصر میں نماز جمعہ جامع امام شافعی میں پڑھ کر امام شافعی رحمہ اللہ کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔ پھر مغرب کی نماز شیخ صاحب ممدوح کی جامع مسجد میں پڑھی اور آپ کی قبر کی زیارت کی اور فاتحہ پڑھی۔ آپ ۹۷۳ھ میں فوت ہوئے۔ اللہم ارحمہ برحمتک الواسعۃ