کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 423
اور بے واسطہ (براہ راست) امام مالک رحمہ اللہ سے ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسے روایت کیا اور لوگوں نے اس کی تحصیل میں دور دراز شہروں سے امام مالک کی طرف (سفر کر کے) اونٹوں کی چھاتیوں کو پیٹ مارا (یعنی اونٹوں پر سوار ہو ہو کر پہنچے) جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث (مبارک) میں اس بات کا ذکر کیا تھا[1]پس ان (سفر کرنے والوں ) میں سے بعض تو بہت زبردست فقہا ماہرین فن ہیں مثلاً امام شافعی اور امام محمد بن حسن اور ابن وہب اور ابن قاسم اور بعض ان میں سے چوٹی کے محدث ہیں ۔ مثلاً یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمن بن مہدی اور عبدالرزاق اور بعض ان میں سے بادشاہ و سلاطین ہیں مثلاً ہارون رشید اور اس کے دونوں بیٹے (امین و مامون) اور آپ کے زمانہ ہی میں اس کتاب مؤطا کی شہرت تمام اسلامی دیار میں پہنچ گئی۔ پھر جو زمانہ آتا گیا اس میں اس کی شہرت زیادہ ہی زیادہ ہوتی گئی اور اس طرف لوگوں کی توجہ بھی زیادہ ہی ہوتی گئی۔ (چنانچہ) اس پر فقہائے (امت) نے (اپنے اپنے) شہروں اور (علاقوں ) میں اپنے مذاہب کی بنا رکھی حتی کہ بعض امور میں اہل عراق (حنفیوں ) نے بھی اور علما ہمیشہ اس کی احادیث کی تخریج کرتے رہے اور اس کے متابعات و شواہد ذکر کرتے رہے ہیں ۔ اور غریب الفاظ کی شرح اور اس کے مشکلات کا ضبط اور اس کی فقہ سے
[1] اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا جو جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یوشک ان یضرب الناس اکباد الابل یطلبون العلم فلا یجدون احدا اعلم من عالم المدینۃ۔ ھذا حدیث حسن (فی نسختہ صحیح) یعنی وہ زمانہ قریب آرہا ہے کہ لوگ علم کی طلب میں اونٹوں کی چھاتیاں پیٹیں گے اور (اس وقت) مدینہ (طیبہ) کے ایک عالم سے بڑھ کر علم والا کسی کو نہ پائیں گے۔ ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے اور ایک نسخہ میں ہے کہ صحیح ہے۔ اس کے بعد امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام سفیان بن عینیہ جو اس حدیث کے راویوں میں سے ہیں ان کا ایک قول یہ ہے کہ اس عالم سے مراد امام مالک رحمہ اللہ بن انس ہیں اور امام عبدالرحمن کا بھی قول ہے کہ مراد امام مالک رحمہ اللہ بن انس ہیں رحمہ اللہ وارضاہ۔ اللّٰہم اغفر لکتابہ و لمن سعی فیہ برحمتک یا ارحم الراحمین۔