کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 409
روایت سے ثابت ہو گئی۔ تو بس صحت کے نہایت بلند کنگرے پر پہنچ گئی۔ (۶) قاضی ابن خلکان نے آپ کے حالات میں آپ کا قول نقل کیا ہے۔ وقال مالک قل رجل کنت اتعلم منہ مامات حتی یجیئنی و یستفدنی (جلد اول صفحہ۴۳۹) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کم ہو گا جس کسی سے میں نے کچھ سیکھا ہو اور وہ فوت ہو گیا ہو۔ حتی کہ میرے پاس آوے اور مجھ سے کچھ دریافت کرے۔ ولادت:۔ آپ بعہد بنی امیہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں ۹۳ ھ؁ میں مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پیدا ہوئے۔ اس سے پہلے سنہ میں مسلمانوں نے سپین فتح کیا تھا۔[1] نسب:۔ آپ عرب کے معزز قبیلہ ذی اصبح میں سے ابو عامر کی اولاد سے ہیں ۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر رضی اللہ عنہ ۔ (۱) ابو عامر کی نسبت حضرت شاہ صاحب نے مصفی میں لکھا ہے کہ وہ صحابی ہیں ۔ اور سوائے غزوہ بدر کے سب غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائیوں میں شامل ہو کر آپ کے ساتھ رہے۔[2]
[1] فتوح البلدان بلاذری۔ [2] شاہ صاحب نے تو ابو عامر کو صحابہ میں شمار کیا ہے۔ لیکن حافظ ذہبی رحمہ اللہ تجرید اسماء الصحابہ میں لکھتے ہیں کان فی زمن النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم و لم ار احد اذکرہ فی الصحابۃ یعنی ابو عامر (مذکور) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔ (اس کے بعد لکھتے ہیں ) اور میں نے کسی (مصنف) کو نہیں دیکھا کہ اس نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہو۔ (جلد دوم صفحہ۱۹۳ نمبر شمار۲۱۱۱) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اصابہ میں حافظ ذہبی کا حوالہ بتقدیم و تاخیر عبارت ذکر کر کے یونہی بغیر تردید یا تائید کے چھوڑ دیا ہے (باب الکنی۔ قسم ثالث۔ حرف عین۔ نمبرشمار۸۲۸ جلد ہفتم مطبوعہ کلکتہ صفحہ۲۶۹) حضرت شاہ صاحب نے تو اپنا ماخذ ذکر نہیں کیا۔ لیکن زرقانی شرح مؤطا نے لکھا ہے۔ کہ قاضی عیاض نے قاضی بکر بن العلاء القیشری سے اسی طرح نقل کیا ہے (کہ وہ صحابی ہے) غالباً حضرت شاہ صاحب کا ماخذ قاضی عیاض کی تحریر ہوگی۔ حافظ ابن عبدالبر نے بھی استیعاب میں اس ابو عامر کا مطلقاً ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ تین اور شخصوں کا ذکر کیا ہے۔ جن کا نام ابو عامر تھا۔ واللہ اعلم