کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 407
امام مالک کا پایہ اس قدر بلند ہے کہ مجھ ایسے ناقابل کا آپ کی تعریف میں قلم اٹھانا ایک قسم کی جرات اور ترک ادب ہے۔ مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم لکھنوی تعلیق ممجد میں فرماتے ہیں ۔
الفائدۃ الثانیہ فی ترجمۃ الامام مالک و ما ادراک ما مالک امام الائمہ ومالک الازمۃ راس اجلۃ دارالھجرۃ قدوۃ علماء المدینۃ الطیبۃ یعجز اللسان عن ذکر اوصافہ الجلیلۃ و یقصر الانسان عن ذکر محاسنہ الحمیدۃ وقد اطنب المور خون فی تواریخھم والمحد ثون فی توالیفہم فی ذکر ترجمتہ و ثنائہ و صنف جمع منہم رسائل مستقلۃ فی ذکر حالاتہ الخ (صفحہ۱۳)
امام مالک رحمہ اللہ کی بابت تجھے کیا معلوم (کہ وہ کیا ہیں ؟ اور ان کا کیا پایہ ہے؟) وہ اماموں کے امام ہیں اور (علم کی) باگ کے مالک۔ بزرگان دارلہجرۃ کے سر (تاج) ہیں اور علماء مدینہ طیبہ کے پیشوا۔ آپ کے اوصاف جمیلہ کے ذکر سے زبان عاجز ہے اور آپ کے محاسن حمیدہ کے بیان سے انسان قاصر۔ مورخین نے اپنی تواریخ میں اور محدثین نے اپنی تصانیف میں آپ کا ذکر اور ثنا بہت لمبا بیان کیا ہے اور ان میں سے ایک جماعت نے آپ کے حالات
[1]
[1] ذشتہ سے پیوستہ
معلومات۔ اور عظمت شان سے محو حیرت ہو گیا اور کئی روز تک اسی حالت میں پڑا رہا۔ طبیعت نہ تو کوئی فیصلہ کر سکی اور نہ کوئی راہ پا سکی۔ آخر کئی روز کے بعد یہ خیال جما کہ اس امام ہمام عالی مقام کے حالات کی تفصیل سے اتر کر اختصار میں پڑنے کی نسبت یہ بہتر ہے کہ آپ کی تعریف و توصیف سے اپنا عجز ظاہر کر دوں ۔
اس خیال کو رکھ کر پھر دوبارہ کتابوں کا مطالعہ شروع کیا کہ اگر مجھ سے پیشتر کسی بزرگ نے اس طریق پر آپ کی تعریف کی ہو۔ تو اس کا نقل کر دینا اپنے الفاظ عجز کی نسبت زیادہ موثر ہو گا۔ الحمدللہ میری پڑتال و ورق گردانی کی محنت ٹھکانے لگی‘ اور گوہر مقصود ہاتھ آگیا۔ مولانا ابوالحسنات محمد عبدالحئی صاحب لکھونی رحمتہ اللہ علیہ کی عبارت جو متن میں نقل کی گئی احب الصالحین ولست منہم لعل اللہ یرزقنی صلاحا۔ اے اللہ تعالیٰ! امام مالک رحمہ اللہ کو ہماری طرف سے اور تمام محدثین کی طرف سے اتنی جزائیں عطا کر کہ میزان میں زیادتی کی گنجائش باقی نہ رہے۔