کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 406
من صناعتہ فکان یھم فیما یروی کثیرا حتی وقع فی حدیثہ المناکیر من حیث لا یشعر لا یعجبنی الاحتجاج بہ اذا افرد و ذکرا الرامھرمزی فی الفاصل انہ اول من صنف بالبصرۃ (جلد۳ صفحہ۲۴۸) ابن حبان کہتے ہیں ۔ ربیع بصرہ کے عابدوں اور زاہدوں میں سے تھے اور رات کے وقت آپ کا گھر کثرت تہجد کی وجہ سے شہد کی مکھی کے گھر کی طرح ہوتا تھا۔ ہاں علم حدیث آپ کی صناعت میں سے نہ تھا۔ اسی لئے ان کو روایات میں کثرت سے وہم پڑ جایا کرتا تھا۔ حتی کہ ان کی روایات میں منکر احادیث بھی داخل ہو جاتی تھیں ۔ اور ان کو معلوم بھی نہ ہوتا تھا۔ جب یہ منفرد ہوں تو مجھے ان سے احتجاج کرنا پسند نہیں اور رامہر مزی رحمہ اللہ (مصنف) نے اپنی کتاب فاصل میں ذکر کیا کہ یہ بصرہ میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے تصنیف (حدیث) شروع کی۔[1] (۱۰)امام مالک رحمہ اللہ بن انس (امام دارالہجرۃ):۔ اب ہم اپنی تاریخ میں اس ممتاز ہستی کے بیان پر آپہنچے ہیں جن کی تصنیف آج تک زندہ اور علماء و طلباء حدیث کے ہاتھوں میں متداول ہے۔ اور اپنے بعد کی تصانیف کے لئے بمنزلہ ماں کے سمجھی جاتی ہے۔ وہ اپنے زمانہ تصنیف سے آج تک یعنی بارہ سو سال تک اسلامی دنیا کے ہر قطر میں برابر شہرت و قبولیت اور اعتبار و فضیلت کے ساتھ چلی آئی ہے اس سے ہماری مراد موطا امام مالک ہے۔ [2]
[1] گویا بصرہ کے ’’پہلے مصنف‘‘ تین بزرگ ہیں سعید‘ حماد اور ربیع رحمہم اللہ۔ [2] امام مالک رحمہ اللہ کی جلالت قدر اور عظمت شان جو خاکسار ہیچمدان کے دل میں ہے اس کے لحاظ سے اور جس صفائی اور ثقاہت کے ساتھ آپ کی زندگی کے حالات اور آپ کے علمی کمالات و خدمات معلوم ہو چکے ہیں ۔ اس کے رو سے بحر طبیعت میں موجیں اٹھتی تھیں کہ آپ کے حالات خوب سیر دل ہو کر لکھوں ۔ لیکن موضوع باب کو ملحوظ رکھ کر طوالت سے بچنا چاہتا تھا۔ مگر انتخاب میں دقت واقع ہوتی تھی کہ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں کیونکہ ہر امر جزوی کی نسبت خیال آتا تھا کہ اس کی یہ ضرورت ہے اور اس کا یہ فائدہ ہے۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ میں شدت اشتیاق اور کثرت