کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 401
یہ بات تو ہے۔ اگر یہ حدیث محمد ابن اسحاق کی توثیق سے صحیح طور پر ثابت ہو جائے اور یہی چمکتا ہوا حق ہے۔ اور جو کچھ اس کے متعلق امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے وہ ثابت نہیں اور اگر صحیح بھی تو اہل علم نے اسے قبول نہیں کیا اور کیونکر قبول کریں ۔ جب امام شعبہ نے ان کے متعلق کہا ہے کہ وہ حدیث میں امیر المومنین ہیں اور ان سے (بڑے بڑے ائمہ نے) مثل سفیان ثوری و ابن ادریس (امام شافعی رحمہ اللہ ) اور حماد بن یزید اور یزید بن زریع اور اسماعیل بن علیہ اور عبدالحارث اور عبداللہ بن مبارک نے روایت کیا اور امام احمد بن حنبل اور امام یحیی بن معین اور عام اہل حدیث نے ان کو معتبر جانا۔ اور امام بخاری نے ان کی توثیق میں کتاب القراۃ خلف الامام میں بہت لمبا بیان لکھا ہے۔ اور امام ابن حبان نے ان کو ثقات میں گنا ہے۔ اور یہ بھی کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس سے رجوع کیا۔ اور ان سے صلح کر لی اور ان کو ہدیہ بھی بھیجا۔
(۴) معمر بن راشد یمنی رحمہ اللہ :
یمن میں سب سے پہلے مصنف حدیث امام معمر بن راشد ہیں ۔ یہ بھی امام زہری رحمہ اللہ کے شاگر د ہیں ۔ امام یحییٰ بن معین[1]فرماتے ہیں کہ معمر ان لوگوں سے ہیں جو امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرنے میں تمام لوگوں سے پختہ اور ضابط ہیں ۔ اور امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ معمر کو جس کسی کے ساتھ ملایا جائے معمر اس سے برتر ہوں گے۔ ان کا حافظہ نہایت قوی تھا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت قتادہ رحمہ اللہ (تابعی) سے حدیث سنا کرتا تھا۔ اس وقت میری عمر چودہ برس کی تھی۔ جو کچھ میں نے اس وقت سنا تھا وہ سب میرے سینے پر لکھا ہوا ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ (جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے) ان کا قول
[1] تذکر الحفاظ جلد اول صفحہ۱۷۱‘ ۱۷۲ امام ذہبی رحمہ اللہ تذکرہ میں عبدالرزاق بن زیاد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت معمر رحمہ اللہ سے پوچھا آپ نے امام زہری رحمہ اللہ سے (حدیث شریف) کس طرح سماعت کی یعنی آپ یمنی ہیں اور وہ مدنی ہیں کیسے اتفاق ہوا کہ آپ مدینہ شریف میں پہنچے آپ نے فرمایا میں قوم طاحیہ کا غلام تھا۔ انہوں نے مجھے بزازی بیچنے کے لئے بھیجا تو میں مدینہ شریف میں آیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ بہت لوگ ایک بزرگ کے سامنے اپنے اپنے معلومات پیش کر رہے ہیں میں بھی ان میں شامل ہو کر اپنے معلومات پیش کرنے لگا۔۱۲ لمحضا (تذکرہ جلد اول صفحہ۱۷۲)