کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 396
مکتوبی صورت میں تو محفوظ نہ رہے[1]لیکن ان کی دیکھا دیکھی جو مذاق تصنیف پیدا ہو گیا تھا۔ اس سے مختلف مقامات پر کئی ایک ائمہ نے اس روش کو جاری رکھا اور وہی علم حدیث کے پہلے مصنف کہلائے۔
(۲) امام زہری رحمہ اللہ کے بعد اس علم کے دوسرے مدون آپ کے لائق شاگرد امام ابن جریج رومی مکی ہیں ۔[2] آپ بڑے پائے کے امام حدیث ہوئے ہیں ۔ ان کے آبا و اجداد روم کے تھے اس لئے ان کو رومی کہتے ہیں ۔ ۸۰ھ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ اٹھارہ سال تک حضرت عطاء بن ابی رباح[3] تابعی مکی کی خدمت میں رہ کر کثرت سے حدیث روایت کی۔ استاد اپنے شاگرد کا بغائت مداح تھا۔ چنانچہ حضرت عطاء سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ کے بعد کس شخص سے کچھ دریافت کیا جایا کرے؟ تو حضرت عطاء نے امام ابن جریج کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اگر یہ جوان زندہ رہا تو اس سے (پوچھ لیا کرنا) [4]
امام احمد کا قول ہے کہ ابن جریج رحمہ اللہ علم کا خزانہ ہے۔ یہ اور سعید بن عروہ حدیث کے
[1] تہذیب التہذیب میں ہے کہ عبداللہ بن ابی بکر سے کسی نے اس مجموعہ کی بابت دریافت کیا تو اس نے کہا وہ ضائع ہو گیا۔
[2] امام ابن جریج کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب میں چھٹے طبقہ میں رکھا ہے۔ جن کی ملاقات کسی صحابی سے ثابت نہیں ہوئی اور اس کی مثال میں انہیں امام ابن جریج کو ذکر کیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ پیدا تو ہوئے عصر صحابہ میں لیکن علم تابعین سے حاصل کیا اسی نظر سے ہم نے ان کو زمان تابعین کے مصنفین میں گنا ہے۔ کیونکہ صحابہ کا زمانہ ۱۱۰ھ تک ہے اور تابعین کا ۱۸۰ھ تک۔
[3] حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بڑی شخصیت کے تابعی ہیں ۔ بڑے بڑے جلیل القدر اور کثیر الحدیث حفاظ صحابہ سے روایت کی۔ مثلاً حضرت عائشہ‘ حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حضرت عطاء سے بھی بڑے بڑے ائمہ نے حدیث روایت کی۔ مثلا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (امام اہل العراق نے) اور امام اوزاعی رحمہ اللہ (امام اہل الشام) نے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا (میزان الاعتدال) آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں پیدا ہوئے اور ۱۱۴ھ میں فوت ہوئے۔
[4] تذکر الحفاظ جلد اول صفحہ۱۵۳۔