کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 387
سکتے۔[1] تنبیہ : خاتمتہ الحفاظ کا منشاء یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ ہر چہار احادیث ایک خاص ترتیب میں بیان کی ہیں کہ اگرچہ صحت اسناد میں سب سے برابر ہیں ۔ لیکن مقصود پر دلالت کرنے میں ہر دوسری اپنی پہلی سے قوی تر ہے۔۔۔۔۔گویا اس ترتیب میں تفاوت مدارج قوت کو ملحوظ رکھا ہے اور یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ کی دقت نظر کی دلیل ہے۔ فافہم زمانہ تابعین میں تدوین علم حدیث جب صحابہ رضی اللہ عنہ یکے بعد دیگرے اس دار فانی سے کوچ کرتے گئے اور کبار تابعین رحمہ اللہ میں سے بہت سے بزرگ فوت ہو گئے اور امت مرحومہ میں اختلافات کا دروازہ کھل گیا تو اوساط تابعین کو اپنے مسموعات کے محفوظ رکھنے اور پچھلی نسلوں تک پہنچا جانے کے لئے تحریر کی حاجت پڑی۔ پس انہوں نے (ان پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں ) اس کیلئے کمر ہمت باندھی اور ہر طرح کی ممکن تحقیق و تدقیق سے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم [2]کو صفحہ سینہ
[1] ذشتہ سے پیوستہ صفحہ میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو تذکرہ میں ذکر کیا ہے اسی میں ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا ہے ’’فہذا الایصح‘‘ (یعنی یہ روایت صحیح نہیں ہے) (دیکھو تذکرہ جلد اول صفحہ۳ احوال حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ) دیکھئے کس قدر جرات ہے کہ روایت تو حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے حوالہ سے نقل کر دی لیکن حافظ ذہبی نے اس پر جو حکم لگایا تھا اسے چھپا دیا۔ ایسے مصنفوں کا کیا اعتبار؟  نبی برحق کا قلبی تعلق اللہ تعالیٰ سے ایسا ہوتا ہے کہ اس میں خلاف حکم الٰہی کا قصد و ارادہ پیدا نہیں ہوتا چنانچہ حضرت شعیب علیہ اسلام کا قول وما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ اور آیت وما ینطق عن الھوی اس پر دال ہیں ۔ اور ترک اولی یا خطا اجتہادی یا کسی امر میں تقدیم یا کسی میں تاخیر یا خلاف مصلحت وقتی ایسے امور جو انبیاء علیہم اسلام سے سرزد ہوئے ہیں ۔ وہ اس باب سے نہیں ہیں کیونکہ ان میں خلاف حکم الٰہی کا قصد و ارادہ نہیں ہوتا فافھم فانہ دقیق جدا ولا تکن من القاصرین۔ [2] مسلمان جمع قرآن کے بعد سب سے پہلے جس علم کو قید تحریر میں لائے وہ علم حدیث ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہیں اول یہ کہ اس زمانہ کے لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور آپ کے اقوال طیبہ اور اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کی کس قدر قدر تھی۔ آپ کے ہر کلمہ اور ہر حرکت و سکون کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور ان کا ضائع ہونا گوارا نہیں کر سکتے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تھی۔ ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما کتاب اللّٰہ و سنتی۔(مؤطا)