کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 386
(ظاہر ہے) کہ آپ سوائے حق بات کے کسی دیگر بات کا قصد نہیں کر
[1]
[1] وبہ توبہ! قرآن کیا ہوا۔ موم کی ناک ہوا جدھر چاہا موڑ لیا اور جو چاہا بنا لیا۔ اگر کسی سادہ لوح کا دل ان اختلاف بیانیوں کی وجہ سے پریشان ہو جائے تو عجب نہیں کہ وہ قرآن مبارک سے بدظن ہو کر خاصا گمراہ ہو جائے اور پھر تائب نہ ہو کیونکہ قرآن کا اپنا بیان ہے کہ اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں یہ مفتری لوگ بہت سا اختلاف پاتے۔ پس اس دعوے کے بعد اتنی اختلاف بیانیاں کسی کج اور سادہ لوح کے لئے موجب ضلالت ہو سکتی ہیں نہ کہ باعث ہدایت۔ اور کیا عجب کہ فتنہ انگیزوں کے دلوں میں بھی ایسے ہی فاسد خیالات راسخ ہو گئے ہوں ۔ یہ سب بد اعتقادیاں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑنے سے پیدا ہوئیں ۔
اس کی مثال یوں سمجھئے کہ دیکھنے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی آنکھوں میں قوت بصارت اور محاذ میں آفتاب عالم تاب یا اس کے قائم مقام (چراغ) کا نور بغیر اپنی بصارت کے آفتاب و چراغ سے روشنی حاصل نہیں ہو سکتی اور بغیر آفتاب یا چراغ کے اپنی بصارت درست نہیں ہو سکتی اور کسی کام نہیں آسکتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آسمان ہدایت کا آفتاب یا چراغ کہا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۔ یا ایھا النبی انا ارسلنک (احزاب) ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا اللھم کما ھدیتنا الی السنۃ فلاتنزعہا منا حتی نلقاک۔
اظہار خیانت: منکرین حدیث انکار حدیث میں گو متفق ہیں مگر درجات انکار میں مختلف ہیں جس کی وجہ سے ان میں کسی قاعدہ اور اصول کی پابندی نہ رہی۔ تو ان کی شاخیں الگ الگ ہو گئیں ۔ چنانچہ حال میں ایک بے استعداد باکمال محب الحق نام ہوئے ہیں ۔ جنہوں نے انکار حدیث میں ایک کتاب ’’دعوت الحق‘‘ لکھی ہے۔ اس میں علم حدیث کی بے اعتباری کے ثبوت میں بحوالہ تذکرۃ الحفاظ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے احادیث نبویہ کو لکھ کر ایک مجموعہ تیار کیا تھا۔ جسے آپ نے اپنی وفات کے وقت جلوا دیا۔‘‘
تعجب ہے کہ ان دروغ باف فتنہ انگیزوں میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کی اتنی جرات ہو جاتی ہے کہ مطبوعہ کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں اور خیانت کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ زمانہ تصنیف سے پیشتر ہوتے تو اللہ تعالیٰ جانے کیا کیا غضب ڈھاتے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فعل اور امام ذہبی رحمہ اللہ کی نقل بھلا کسی کو اس کی تسلیم میں کیا شک؟ سید سلیمان ندوی صاحب ایسے ناقد و بصیر معارف میں اس کتاب پر ریویو کرتے ہیں اور اس کے حوالوں پر اعتبار کر کے اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس کی خیانت پر واقف نہیں ہوتے۔ دوسرے لوگوں کی ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیاں پکڑتے ہیں کہ اگر نہ پکڑتے تو حرج نہیں تھا۔ لیکن اس کی خیانت ظاہر نہ کرنے سے تو ایک جہان کے گمراہ ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ اب سنئے کہ جس