کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 385
ایسی نوشت لکھوا جائیں جس سے ان میں اختلاف کا اندیشہ نہ رہے۔[1]اور
[1] عبرت اس زمانہ کے نئے نئے انقلابات کو غائر نظر سے دیکھنے والے اصحاب جانتے ہیں کہ یہ زمانہ وساوس و فتن کا ہے۔ علم کا چرچا اور غوغا تو بہت ہے لیکن عمل و استعداد مفقود اور غضب تو یہ ہے کہ خود غرضی تحصیل مال اور حب شہرت کا بھوت سب پر سوار۔ الامارحم ربی۔
قرآن چشمہ ہدایت ہے۔ لیکن زمانہ حال کے مطلب پرستوں نے اسے موم کی ناک بنا کر اپنے اپنے خیالات کے سانچے میں ڈھال رکھا ہے۔
(۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا قرآن میں منصوص۔ لیکن برخلاف اس کے قادیانی گروہ قرآن مجید ہی سے سلسلہ رسالت کے اجزاء کے دلائل بیان کرتے ہیں ۔
(۲) شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل ہونا اور قرآن کا دائمی طور پر محفوظ رہنا اور تا قیام قیامت رہنا اور ہمیشہ کے لئے اسی شریعت کا رائج رہنا قران مجید میں مذکور۔ لیکن برخلاف اس کے بابی و بہائی ہیں کہ اسی قرآن مجید سے ایک ہزار سال کے بعد قرآن شریف کے منسوخ ہو جانے اور شریعت محمدی کے خاتمہ کے دلائل بیان کرتے ہیں ۔
(۳) اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدات بلیغہ اور آپ کی نافرمانی پر وعیدات شدیدہ قرآن کریم میں مصرح۔ لیکن چکڑالوی ہیں کہ اسی میں سے اطاعت رسول کو شرک کہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اتنا بھی نہیں جانتے کہ خاص اس وحی کو جو اللہ تعالیٰ نے خاص آپ پر نازل کی۔ لوگوں کو سمجھا سکیں کہ اس حکم سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے۔
(۴) توحید الٰہی کی آیات قرآن عظیم میں کثرت سے موجود۔ جن میں صاف صاف مذکور ہے کہ متصرف عالم‘ مشکل کشا‘ دستگیر‘ دعاؤں کا سننے اور قبول کرنے والا اور حاجات کا پورا کرنے والا‘ رزق کا کھولنے اور بند کرنے والا ضرر و نفع کا مالک‘ دور و نزدیک سے یکساں سننے والا‘ غائب و ظاہر کو یکساں جاننے والا صرف وہی ایک اللہ تعالیٰ ہے۔ ان امور میں کوئی بھی اس کا ساجھی اور حصہ دار نہیں ہے لیکن پیر پرست‘ قبر پرست‘ تعزیہ پرست‘ اپنی ضلالتوں کی سندیں بھی اسی قرآن سے پیش کرتے ہیں ۔
(۵) صحابہ رضی اللہ عنہ کی خدمات اسلام قرآن میں جا بجا مذکور۔ ان کے ایثار جاں نثاریوں کی جگہ جگہ تعریف ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا و قبولیت کا حصول اور جنت کی بشارت موجود۔ لیکن حضرات شیعہ ہیں کہ منہ پھاڑ پھاڑ کر اسی قرآن سے (معاذ اللہ) ان کی منافقت‘ غداری‘ اسلام دشمنی اور کیا کیا برائیاں بیان کرتے ہیں اس کا نتیجہ تو (معاذ اللہ) یہ ہوا کہ قرآن کریم کا کوئی ٹھیٹھ نہیں ۔ ہر ایک کو اس کے مطلب کی دلیل سے خوش کر دیتا ہے اور اپنا کوئی مذہب قائم نہیں کرتا ؎
حلف عدو سے قسم ہم سے کھائی جاتی ہے
ہر ایک سے چاہت الگ جتائی جاتی ہے