کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 379
امی صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے یہ حکیمانہ حکم دے کر قرآن کو اصلی صورت میں محفوظ رکھا۔ اللھم صلی علی محمدن النبی الامی و الہ و اصحابی و بارک و سلم ۔
خلاصتہ المرام :۔ حاصل کلام یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الفاظ قرآن بھی پڑھتے تھے اور ان کی تشریح مطالب بھی فرماتے تھے۔ کبھی تو لفظاً مراد الٰہی بتا دیتے تھے اور کبھی عمل کر کے سمجھا دیتے تھے کہ اس حکم کی کیفیت عمل یوں ہے۔
آپ کے وعظ اور خطبہ کا یہی طریق تھا۔ کہ قرآن کی آیات پڑھتے اور ان کی تشریح فرماتے چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔
عن جابر بن سمرۃ قال کانت للنبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم خطبتان یجلس بینہما یقراء القران و یذکر الناس۔[1]
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے پڑھتے اور ان کے درمیان جلسہ کرتے (بیٹھتے) اور قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔‘‘
جب یہ معلوم ہو چکا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وعظ و خطبہ میں قرآن شریف پڑھ کر سمجھاتے تھے تو اب بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ کہ آپ نے محض کلام الہی کو اپنے کلام سے متن کو شرح سے ممتاز و جدا رکھنے کے لئے یہ حکم دیا تھا کہ مجھ سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھو اس کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں ہے کہ میری تفسیر و تشریح کا اعتبار نہ کرو۔
ہم اس امر کو اس طرح بھی سمجھا سکتے ہیں کہ مسند دارمی میں ابو نضرہ تابعی[2]سے رویت ہے کہ۔
قلت لابی سعیدن الخدری الاتکتبنا فانا لا نحفظ فقال لا لن
[1] صحیح مسلم جلد اول صفحہ۲۸۳ باب یخطب الخطبۃ قائما الخ ۔۱۲منہ
[2] ان کا نام منذر بن مالک ہے۔ اوساط تابعین سے ہیں ۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ سے روایت کی مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ ‘ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ ‘ ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ ‘ ابن زبیر رضی اللہ عنہ ‘ انس رضی اللہ عنہ ‘ ابن عمر رضی اللہ عنہ ‘ جابر رضی اللہ عنہ ‘ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ‘ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین۔ بڑے فصیح اللسان تھے۔ ۱۰۸ھ میں فوت ہوئے ان کا جنازہ بموجب ان کی وصیت کے حضرت حسن بصری نے پڑھایا۔ تہذیب التہذیب جلد دہم صفحہ۳۰۳) ۱۲منہ