کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 378
تو متن اور شرح ہر دو مخلوط ہو جاتے۔ جب ہم اس احتیاط و ممانعت پر بھی بعض روایات میں پاتے ہیں کہ بعض صحابہ نے بعض احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنی آیت خیال کر لیا تھا اور یہ ان کا اپنا خیال تھا۔ تو اگر قرآن کے ساتھ احادیث کی کتابت کی اجازت بھی دی جاتی تو قرآن کے الفاظ کی حفاظت میں بہت اختلاف و اختلاط پیدا ہو جاتا۔ قربان جائیں اسی نبی
[1]
[1] ذشتہ سے پیوستہ
قومہ اور جلسہ اور دوسرے سجدہ کا تو ذکر ہی نہیں ہے۔ اور قیام اور رکوع کا کسی جگہ ذکر ہے اور کسی جگہ نہیں ہے۔ پس یہ بھی ضروری نہیں ۔ اور علاوہ اس کے کہیں رکوع کو پہلے ذکر کیا ہے۔ اور کہیں سجدے کو پہلے۔ تو ان کی ترتیب کہ پہلے رکوع ہو پیچھے سجدہ ہو۔ یہ بھی ضروری نہیں جس طرح بن پڑے۔ انٹ کسنٹ نماز گھسیٹ لینی کافی ہے۔ اگر یہ خیال آگیا تو نماز ایک مضحکہ ہو جائے گی۔
(۳) اور اگر کبھی نزاکت اجتہاد یہاں تک پہنچ گئی کہ قرآن مجید سے رکوع کا جزو نماز ہو نا ثابت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ صلوۃ خوف کی کیفیت میں اس کا ذکر نہیں تو ایک دن رکوع سے بھی چھٹی مل کر نماز نہایت مختصر سی رہ جائے گی۔
(۴) اسی طرح اگر کسی وقت اس مقام پر پہنچ گئے کہ قرآن میں دو سجدوں کا حکم نہیں ہے تو اور تخفیف ہو جائے گی۔
(۵) اور تشہد و قعدہ اور سلام کے بعد نماز سے فارغ ہونے کا حکم تو قرآن میں ہے ہی نہیں ۔ بس اور چھٹی ہو گی۔
اب نماز کیا رہ جائے گی۔ کہ جدھر چاہا منہ کر لیا اور کھڑے ہو کر سجدے میں چلے گئے۔ اور پھر بھاگ کر گاڑی میں سوار ہو لئے۔ بس اللہ اللہ خیر صلا۔ اور بار بار رکعتوں کا دوہرانا تو روایتی ملاؤں نے بنا رکھا ہے۔ کہ اتنی دیر تک لوگوں کو نماز میں باندھ رکھتے ہیں ۔ اس کی ضرورت ہی کیا؟ اعاذنا اللّٰہ من ھذہ الخرافات والوساوس والخزعبیلات۔ ربنا لاتزغ قلوبنا بعد از ھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔
غرض ان لوگوں نے قرآن کو موم کی ناک تو آگے ہی بنا رکھا ہے۔ اگر اس میں اور مشاق ہو گئے اور اس میدان میں کھل کھیلے۔ تو اسے ایک ’’پانی کی نالی‘‘ کی طرح بنا ڈالیں گے کہ جہاں سے چاہا کنارہ توڑ لیا اور جدھر چاہا پانی بہا لے گئے۔
اچھا تو دین کی اس طرح قطع و برید کرنے والوں کا تو حق ہو کہ قرآن کی تفسیر کریں اور جس طرح چاہیں اس کا مطلب بگاڑ لیں ۔ اور حق نہ ہو تو اس کا نہ ہو جس پر قرآن اترے۔ اور وہ خدا اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہو۔ اور خدا کی شریعت کا امین ہو اور بیان قرآن اس کا منصب ہو۔ صلوات اللّٰہ علیہ و سلامہ۔ قاتلہم اللّٰہ انی یوفکون۔ ۱۲منہ