کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 377
آپ کی زبان فیض ترجمان سے قرآن اور اس کی تشریح و تفسیر سن کر ہر دو لکھے جاتے۔ [1]
[1] ذشتہ سے پیوستہ دماغ ہے اور دماغ میں قوت فکر ہے وہ اسے ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے دماغ میں جگہ نہیں دے سکتا۔ اگر یہ درست ہے کہ (معاذ اللہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تفسیر نہیں کر سکتے تھے۔ یعنی آپ مجاز نہیں تھے۔ تو مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی بانی فرقہ اہل قرآن کو کیا حق تھا؟ کہ محض الفاظ قرآن کی تبلیغ و اشاعت سے تجاوز کر کے اس کی تفسیر و تشریح مطالب میں بارشتر کے برابر سفید اوراق کو سیاہ کر ڈالیں ۔ عام اس سے کہ وہ بے قاعدہ اور بے فائدہ ہو یا کیا؟ اور ان کے بے پڑھے مرید اس پر بھی قناعت نہ کر کے قرآن کا نام لے کر اور اسے موم کی ناک بنا کر انٹ کسنٹ واہی تباہی باتوں سے رائی کا پہاڑ اور تنکے کا تاڑ بنا ڈالیں ۔ سبحان اللہ؎ بت کریں آرزو خدائی کی شان تیری ہے کبریائی کی ان کا تو حق ہو کہ قرآن کو جدھر چاہیں موڑ لیں ۔ کوئی پانچ نمازیں پڑھتا ہے تو وہ بھی قرآن کے حکم سے اور کوئی تین پڑھتا ہے تو وہ بھی قرآن کے حکم سے تیس روزوں کا ثبوت مانگو تو وہ بھی قرآن سے اور اگر تین کا چاہو تو وہ بھی قرآن سے ۔ اگر اوقات نماز کی پابندی ہے تو قرآنی حکم سے اور اگر اوقات کی پابندی اڑانا چاہو تو وہ بھی قرآن سے۔ بلکہ ہئیات نماز کو تمامہا اڑانا چاہو تو وہ بھی قرآن سے۔ کوئی تحریمہ کے وقت قواعد نحویہ کے خلاف ان اللہ ھو العلی الکبیر پڑھ کر قول باندھتا ہے۔ تو کوئی اللہ الصمد پڑھ کر۔ اور کوئی کہتا کہ جس طریق پر عام مسلمان نماز پڑھتے ہیں اگرچہ یہ طریق قرآن نے نہیں سکھایا۔ لیکن جب قرآن نے کوئی اور طریق بھی مقرر نہیں کیا تو جس طرح ساری امت نماز پڑھتی ہے۔ اس طرح پڑھ لینے میں کیا حرج ہے؟ غرض جتنے آدمی اتنے طریقے۔ اور دعوی سب کا یہی کہ ہم اہل قرآن ہیں ہم روائتی اسلام کے قائل نہیں ہیں سبحان اللہ قرآن کیا ہوا موم کی ناک ہوا جدھر چاہا موڑ لیا۔ خدا کا شکر ہے کہ ابھی ان کے معلومات یہاں تک نہیں پہنچے۔ کہ نماز کی حالت میں کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم قرآن میں نہیں ہے اور جسے اہل روایت لوگ سمجھتے ہیں ۔ اس میں نماز کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس کے برخلاف قرآن میں یہ بھی ہے ۔ وللہ المشرق و المغرب فاینما تولو ا فثم وجہ اللّٰہ (البقرہ پ۱) یعنی مشرق و مغرب (سب طرفیں ) خدا ہی کی ہیں ۔ پس جدھر منہ کر لو خدا کا قبلہ ادھر ہی ہے۔ خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ اگر کبھی ان کا اجتہاد یہاں تک پہنچ گیا تو خدا خیر رکھے استقبال کعبہ کی قید بھی اڑ جائے گی۔ اور حفاظت کعبہ و جزیر العرب بھی ایک بے جا شورو غوغا اور ایک بے سود سو داد ہذیان سمجھا جائے گا۔ (ومعاذ اللّٰہ من ذلک) (۲) اور اگر کہیں یہ خیال آگیا کہ نماز میں ترتیب ارکان کہ پہلے قیام ہو پھر رکوع پھر قومہ پھر سجدہ پھر جلسہ پھر دوسرا سجدہ یہ بھی حدیث ہی سے ثابت ہے۔ اسے ہم کیوں مانیں ؟ کیونکہ قرآن میں