کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 376
’’ جن حدیثوں سے کتابت کی اباحت و اجازت ثابت ہوتی ہے۔ ان کو اس امر پر محمول کریں گے۔ کہ یہ اجازت اس شخص کے حق میں ہے جس کو اپنے حافظہ پر اعتماد نہ ہو مثلاً حدیث اکتبوا لابی شاہ۔ اور حضرت علی کے صحیفہ والی اور حضرت عمرو بن حزم والی نوشت جس میں فرائض اور سنن اور دیات (خون بہا) کے مسائل تھے۔ اور صدقہ (زکوٰۃ) کی نوشت والی حدیث جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو بھیجی تھی جب کہ آپ نے ان کو بحرین کی طرف بھیجا تھا اور حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص لکھا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ اسی قسم کی دوسری احادیث۱؎ اور بعض نے کہا ہے کہ ممانعت کی حدیث ان احادیث اجازت سے منسوخ ہے۔ اور ممانعت صرف اس وقت تھی جب قرآن کے ساتھ حدیث کے مل جانے کا اندیشہ تھا۔ پس جب یہ اندیشہ جاتا رہا تو آپ نے کتابت کی اجازت دے دی اور بعض نے کہا ہے کہ صرف ممانعت اس امر کی تھی۔ کہ حدیث کو قرآن کے ساتھ ملا کر ایک ہی صحیفہ پر نہ لکھا جائے تاکہ دونوں مخلوط نہ ہو جائیں اور پڑھنے والے کو اشتباہ نہ پڑے واللہ اعلم۔‘‘ غرضیکہ کہ حدیث لکھنے کی ممانعت کا حکم کوئی اصلی و دائمی نہیں تھا۔ بلکہ عارضی و وقتی تھا۔ کیونکہ اس وقت قرآن اور غیر قرآن کے اختلاط کا سخت اندیشہ تھا[1]اور یہ بات لفظ عنی میں بامعان نظر غور کرنے سے صاحب ذوق سلیم کو صاف معلوم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ مجھ سے سوائے قرآن کو کچھ نہ لکھو۔ اور ظاہر ہے کہ آپ قرآن مجید بھی سناتے تھے اور اس کے مطالب بھی سمجھاتے تھے[2]پس اگر
[1] جس طرح کہ تیسرے دن کے بعد قربانی کا گوشت گھر میں رکھنے سے منع کیا۔ لیکن اگلے سال آپ نے فرما دیا کہ گزشتہ سال لوگوں میں تنگی تھی اس لئے وہ حکم دیا تھا اب تم ذخیرہ کر سکتے ہو۔ ۱۲ مشکوٰۃ صفحہ۲۲۴) [2] تنبیہ یہ بات بالکل بے عقلی کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف الفاظ قرآن سنا دیتے تھے اور فہم مطالب امتیوں کے دماغ کے (جو ابھی زیر تربیت تھے) حوالے کر دیتے تھے۔ جس شخص کے سر میں