کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 371
حرج نہیں ۔ اور جو کوئی مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔‘‘ منکرین حدیث کے جواب میں اس کے متعلق سابقاً گذر چکا ہے کہ اس حدیث میں کتابت غیراز قرآن کی ممانعت ہے نہ اتباع حدیث کی۔ اور ہمارا تمہارا جھگڑا اتباع حدیث میں ہے نہ کہ کتابت میں ۔ پس تم کو یہ حدیث کسی طرح بھی مفید نہیں ۔ عبرت: مقام تعجب ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کر رہے ہیں اور وہ آپ کے کلام ہدایت نظام کے محل اور موقع کو دوسروں کی نسبت زیادہ اچھا سمجھ سکتے تھے اور آپ کے احکام سعادت التیام کی تعمیل میں دوسروں کی نسبت زیادہ چست اور نہایت پختہ و فرمانبردار تھے۔ جیسا کہ آپ حدیبیہ کے واقعہ کے ذکر میں معلوم کر چکے ہیں وہ تو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان و مال اور ہر شے سے عزیز جانیں اور آپ کی سنت سے ایک قدم ہٹنا بھی گوارا نہ کریں اور اس حدیث سے تعمیل حدیث کی ممانعت نہ سمجھیں ۔ اور آج تیرہ سو برس سے زیادہ عرصہ کے بعد وہ لوگ کہ نہ تو عربی ان کی زبان ہو اور نہ اکتسابی طور پر ان کو اس زبان میں اتنی مہارت ہو کہ اس میں صحت سے تحریری یا تقریری طور پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں [1] اور صرف اردو تراجم کو دیکھ دیکھ کر لوگوں کو شکوک و شبہات میں ڈالنا ان کا دستور ہو۔ وہ بے پڑھے مجتہد[2]اس حدیث
[1] عرصہ ہوا ہم نے اپنے رسالہ الہادی میں کتاب تائید القرآن میں جو پادری اکبر مسیح باندوی کی کتاب تاویل القرآن کے جواب میں لکھی گئی تھی لکھا تھا کہ اگر مولوی عبداللہ چکڑالوی (بانی فرقہ اہل القرآن) مسٹر اکبر مسیح کے نزدیک علوم عربیہ میں کمال رکھتے ہیں تو مسٹر اکبر مسیح مولوی عبداللہ صاحب کو لکھیں کہ آپ کو اچھا خاصا مولوی لکھ رہا ہوں ۔ مہربانی کر کے آئندہ مہینے کا رسالہ اشاعت القرآن عربی زبان میں شائع کریں ۔ مولوی عبداللہ صاحب سے کیا ہو سکتا تھا۔ جذام کے تعفن میں گل سڑ کر مر گئے اور جہان کو پاک کر گئے لیکن ہمارا مطالبہ پورا نہ کر سکے۔ اب بھی ان کے متعقدوں میں سے کسی کو اپنے علم کا خیال ہے تو وہ خیالات کا اظہار تقریراً و تحریرا عربی زبان میں کریں ورنہ خاموش رہیں ۔ ۱۲منہ [2] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہل مجتہد کو دین کی آفتوں میں شمار کیا ہے۔۱۲ (جامع صغیر جلد۱ صفحہ۳)