کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 365
یعنی عبدالمجید بن وہب (تابعی) کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء رضی اللہ عنہ بن خالد (صحابی) نے کہا کہ کیا میں تجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تحریر نہ دکھاؤں جو آپ نے میرے لئے لکھوا دی تھی؟ میں نے کہا کیوں نہیں ؟ (ضرور دکھایئے) پس وہ ایک نوشت نکال لائے جس میں یہ لکھا تھا کہ الخ۔[1] تقریب میں حافظ صاحب نے حضرت عداء بن خالد کی نسبت لکھا ہے۔ تاخرت وفاتہ الی بعد المائۃ یعنی ان کی وفات پہلی صدی کے اختتام کے بعد ہوئی۔ اور عبدالمجید تابعی مذکور کو طبقہ رابعہ میں شمار کیا ہے جو امام زہری رحمہ اللہ وغیرہ تابعین کا طبقہ ہے اور اس طبقہ کی بابت تصریح کی ہے کہ اس طبقہ کی وفاتیں پہلی صدی کے اختتام کے بعد ہوئی۔ اس تفصیل سے صاف صاف معلوم ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پاک نوشتہ پہلی صدی کے بعد تک برابر محفوظ چلا آیا۔ حافظ ابن عبدالبر قرطبی رحمہ اللہ [2]نے ’’استیعاب‘‘ میں حضرت عداء صحابی کے ترجمہ میں اس نوشت کا ذکر کر کے کہا ہے ۔ وھی عند اہل الحدیث محفوظۃ ’’ یعنی یہ تحریر اہل حدیث کے نزدیک محفوظ ہے۔‘‘ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے باسناد خود ابو رجاء عطا روی تابعی سے روایت کیا کہ مجھے عداء بن خالد نے کہا کیا میں تجھ کو وہ تحریر نہ دکھاؤں ؟ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے
[1] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریرات و نشانات کو نہایت محبت سے محفوظ رکھتے تھے۔ اور نہایت شوق سے دوسرے لوگوں کوے بطور تبرکات دکھاتے تھے اللھم صلی علی محمد و علی ال محمد۔ اللھم اغفر وکاتبہ ولمن سعی فیہ۔ ۱۲منہ [2] حافظ ابن عبدالبر ربیع الاخر ۳۶۸؁ھ میں پیدا ہوئے اور جمعہ کی رات کو اخیرتاریخ ربیع الاخر۴۱۳ھ؁ میں فوت ہوئے۔ پس آپ نے پورے پچانوے سال عمر پائی۔ آپ کا نام یوسف بن عبداللہ تھا اور کنیت ابو عمر تھی۔ لیکن حافظ ابن عبدالبر کے نام سے زیادہ مشہور ہیں ۔ ان کے وقت میں اندلس (ملک سپین) میں ان کے پایہ کا کوئی حافظ حدیث نہ تھا۔ ۱۲منہ