کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 363
اس روایت میں اس امر کی تصریح نہیں ہے کہ یہ مسائل حضرت علی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائے تھے یا آپ نے خود اپنی یادداشت کے لئے لکھ رکھے تھے۔ لیکن حضرت جابر کی مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسائل آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائے تھے۔
عن جابر بن عبداللّٰہ قال کتب النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم علی کل بطن عقولہ ثم کتب انہ لایحل لمسلم ان یتوالی مولے رجل مسلم بغیرہ اذنہ ثم اخبرت انہ لعن فی صحیفتہ من فعل ذالک۔[1]
’’یعنی حضرت جابر کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا کہ ہر بطن کی دیت اس کے اپنے ذمہ ہے۔ پھر یہ بھی لکھوایا کہ کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کے آزاد کردہ غلام کا خود بخود مالک بن بیٹھے۔ پھر مجھے (حضرت جابر کہتے ہیں ) یہ بھی خبر دی گئی کہ آپ نے (اس) صحیفے میں ایسا کرنے والے پر لعنت بھی ذکر کی ہے۔‘‘
[1] ذشتہ سے پیوستہ
متعلق نوشت رکھنے کی یہ وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہ میں بڑے پائے کے قاضی تھے اور خدا تعالی نے آپ کو فصل مقدمات کی خاص قابلیت عطا فرمائی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایسے صاحب فہم و تدبیر صحابی آپ کی اس خدا داد قابلیت کے خصوصیت سے معترف تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں آپ کی شان میں آپ کے یہ الفاظ ہیں اقضا علی یعنی حضرت علی ہماری جماعت (صحابہ) میں سب سے بڑے قاضی ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر باب ما ننسخ من ایتہ اس کی تائید ایک مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جب آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا اور آپ نے اپنی کم عمری میں اور اس امر میں نا تجربہ کاری کا عذر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ان اللّٰہ سیہدی قلبک ویثبت لسانک (مشکوۃ باب العمل فی القضاء بروایتہ الترمذی و ابو داؤد و(ابن ماجہ) یعنی ضرور ہے کہ اللہ تعالی تیرے قلب کو (حق کی) ہدایت کرے گا۔ اور تیری زبان کو (حق بولنے پر) ثابت رکھے گا۔ اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ قاضیوں کو ان ابواب ثلاثہ یعنی قصاص دیات اور احکام اساری اور ان کے متعلقہ مسائل کی سخت ضرورت رہتی ہے۔ پس ان امور کی نسبت جو احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو ملیں وہ سب اس صحیفہ متبرکہ میں مکتوب تھیں ۔ ۱۲منہ
صحیح مسلم کتاب العتق باب تہریم تولی العتیق غیر موالیہ جلد اول صفحہ۴۹۵)۱۲منہ