کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 358
ایک فرمان اپنے عمال کی طرف بھیجنے کے لئے لکھوایا۔ جس میں فریضہ زکوٰۃ کے بعض مسائل تحریر کروائے۔ لیکن اس فرمان کے ارسال کرنے سے پیشتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دار فانی سے عالم باقی کو رحلت فرما گئے۔[1]تو آپ کے بعد اس فرمان کانفاذ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کیا۔ پھر خلیفہ ثانی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی اسی کے مطابق عمل کیا۔ یہ تحریر آل فاروق کے پاس محفوظ چلی آئی۔ امام زہری[2]کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر کے بیٹے حضرت سالم[3]نے وہ تحریر مجھے پڑھنے کو دی تو میں نے اسے جوں کا توں بالتمام حفظ کر لیا۔ اور وہ تحریر وہی ہے جسے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے حضرت عبداللہ بن عمر کے دونوں بیٹوں حضرت عبداللہ اور حضرت سالم سے (حاصل کر کے) نقل کروا لیا تھا۔
اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ تحریر پہلی صدی کے اخیر تک برابر محفوظ چلی آئی۔ کیونکہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ ۹۹ھ سے ۱۰۱ھ تک ہے۔ اس کی تائید حضرت انس کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کو بحرین میں عامل کر کے بھیجا تو ان کو ایک تحریر مشتمل بر مسائل زکوۃ بھیجی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے مزین تھی۔[4]
(۲) اسی طرح آپ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ صحابی کی طرف بھی ایک فرمان لکھوایا جس میں قصاص و دیت (خون بہا) کے مسائل تھے۔ اس تحریر کا ذکر بہت سے اکابر محدثین نے اپنی اپنی تصانیف میں کیا ہے۔ مثلاً امام الائمہ امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا‘ میں امام شافعی رحمہ اللہ نے رسالہ ملحقہ بکتاب الام[5]میں امام احمد رحمہ اللہ نے مسند میں ‘ امام بخاری نے تاریخ صغیر میں ‘ امام
[1] انا للہ و انا الیہ راجعون و فی ذلک قال حسان رضی اللّٰہ عنہ ۔ من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر
[2] امام زہری رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ کے استاد ہیں ۔ ان کا ذکر آگے آئے گا۔ انشاء اللہ
[3] حضرت سالم رحمہ اللہ بڑے پایہ کے عالم تھے۔ فقہائے سبعہ مدینہ میں معدود تھے ان کا ذکر باب فصل کے حاشیے میں گذر چکا ہے۔ ۱۲منہ
[4] یہ سارا بیان سنن ابی داؤد کی کتاب الزکوۃ کی تین روایتوں کو جمع کر کے لکھا گیا ہے۔ ۱۲منہ
[5] رسالہ ملحقہ بکتاب الام صفحہ۵۸ نیز جلد۱ ص ۶۶‘ ۶۷۔