کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 350
شریف میں ہے کہ جب عمرو بن سعید[1]مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تیار کر رہے تھے۔ تو حضرت ابو شریح[2]صحابی رضی اللہ عنہ نے اسے اس کام سے روکنے کے لئے ان الفاظ سے خطاب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی۔
ائذن لی ایھا الامیر احدثک قولاقام بہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم الغدمن یوم الفتح سمعتہ اذنای ووعاہ قلبی وابصرتہ عینای حین تکلم۔[3]
’’(یعنی) امیر صاحب! مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو وہ حدیث سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ سے دوسرے روز فرمائی تھی جسے میرے دونوں کانوں نے سنا۔ اور میرے دل نے اسے پوری طرح یاد کر لیا اور جب آپ فرما رہے تھے تو میری دونوں آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں ۔‘‘
اس سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر کا تفصیلی نقشہ صحابی کی نظر میں زمانہ روایت تک برابر پھر رہا ہے۔ اور وہ ان کے خزانہ حافظہ میں کامل طور پر مخزون و محفوظ ہے۔ اور ان کو اس کی نسبت پورا وثوق و یقین ہے کیونکہ دل‘ کان اور آنکھ کا ذکر صرف سماع و حفظ و فہم کی پختگی اور رسائی ظاہر کرنے کے لئے ہے ہم ان تاکیدی
[1] حضرت عبداللہ بن زبیر نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے پوتے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے انہوں نے یزید سے بیعت نہ کی تھی اور مکہ معظمہ میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ عمرو بن سعید نے جو یزید کی طرف سے حاکم مدینہ تھا۔ عبداللہ بن زبیر کے مقابلہ کے لئے مکہ شریف کی طرف لشکر کشی کا سامان تیار کیا۔ حضرت ابو شریح صحابی نے عمرو بن سعید کو اس سے منع کیا۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم مکہ میں لڑائی کرنی فتح مکہ کے دوسرے روز بالتصریح حرام فرمائی تھی۔ پس وہاں پر لشکر کشی جائز نہیں ۔
[2] حضرت ابو شریح خزاعی فتح مکہ سے پیشتر اسلام لائے۔ غزوہ فتح مکہ میں اپنے قبیلے خزاعہ کا جھنڈا لئے دس ہزار قدوسیوں میں شامل تھے۔ مدینہ طیبہ میں ۶۸ھ میں فوت ہوئے۔ قاضی شریح جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد کے عہدوں میں عادل و قابل قاضی تھے انہی حضرت ابوشریح کے بیٹے تھے (اصابہ جلد ہفتم مطبوعہ کلکتہ صفحہ۱۸۵)
[3] صحیح بخاری کتاب العلم باب لیبلغ الشاہد الغائب۔