کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 349
تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
اور اقوام عالم کو ان کے آگے دھر دیا۔[1]اور شاہان عالم کے تختوں کو ان کے پاؤں کی چوکی بنا دیا۔ اسی طرح اشاعت اسلام اور اجرائے شریعت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ان کی ہمت میں برکت دینے کے ساتھ ان کے حافظہ میں پختگی اور ان کے ضبط میں اتقان پیدا کر دیا۔ کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کانوں سے کلمات طیبات اور آنکھوں دیکھے واقعات و حالات اور آپ کے اعمال صالحات عموماً باوجود زمانہ دراز گذر جانے کے بالکل تازہ اور آنکھوں کے سامنے رہتے تھے۔ اور ان کے دل میں اپنا ڈر اس قدر بھر دیا تھا کہ اگر کہیں کسی مترادف لفظ یا کمی بیشی کا شبہ بھی پڑ گیا۔ تو اس تردد کو روایت میں برابر ظاہر کر دیا۔ چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث جو خزائن ایران کی فتح کے متعلق اوپر مذکور ہوئی۔ اس میں من المسلمین اوالمومنین میں لفظ ’’او‘‘ سے سمجھا دیا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمین فرمایا تھا۔ یا مومنین حالانکہ دونوں کے مصداق و مفہوم شرعی میں کچھ بھی فرق نہیں ۔ صرف روایت الفاظ میں احتیاط کے خیال سے ایسا ذکر کر دیا۔
الغرض حالات مذکورہ کے ہوتے ہوئے صحابہ کرام ان واقعات کے یاد رکھنے میں کسی کتابی بیاض و تحریری نسخہ کے محتاج نہ تھے۔ نہ تو اپنے علم کے لئے اور نہ دوسروں کو بتانے کے لئے۔ جب کبھی ان کے سامنے ان واقعات کے متعلق کوئی ذکر آیا۔ تو جھٹ ان کی نظروں میں عہد رسالت کا نقشہ مع اس واقعہ کی خصوصیات و کیفیات کے پھر گیا۔ گویا کہ وہ اسے اب بھی عیاناً دیکھ رہے ہیں ۔ چنانچہ صحیح بخاری
[1] اس میں لیسیعاہ نبی کی بشارت کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے جو یہ ہے۔ (۲)کس نے اس راست باز (امین) کو پورب کی طرف سے برپا کیا اور اپنے پاؤں کے پاس بلایا (معراج) اور امتوں کو اس کے آگے دھر دیا اور اسے بادشاہوں پر مسلط کیا؟ کس نے انہیں خاک کی مانند اس کی تلوار کے اور اڑتی بھوس کے مانند اس کی کمان کے حوالے کیا؟ (۳) اس نے ان کا پیچھا کیا اور جس راہ پر کہ پیشتر قدم نمارا تھا سلامت گذر گیا۔ (لیسیعاہ نبی باب۴۱: ۳؍۲) آنحضرت تو اولاً و بالذات مصداق ہیں اور صحابہ بالتبع۔ کیونکہ یہ سیاسی غلبے کی خبر ہے اور سیاسی غلبے اور جنگوں میں صحابہ بھی شامل ہیں ۔ فافہم۔