کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 344
حرج و من کذب علی (قال ھمام احسبہ قال) متعمدا فلیتبوء مقعدہ من النار (صحیح مسلم جلد ثانی باب التثبیت فی الحدیث و حکم کتاب العلم صفحہ۴۱۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے (جو کچھ سنو اسے) لکھا نہ کرو۔ اور جس نے مجھ سے سوائے قرآن کے کچھ لکھا ہو اسے مٹا دے۔ اور مجھ سے زبانی روایت کیا کرو۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں اور جو کوئی مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ [1]
[1] ذشتہ سے پیوستہ پیش کی جاتی ہیں ۔ جو اس ممانعت کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ پس یہ سند کیوں معتبر ہونے لگی؟ اگر کہا جائے کہ یہ الزامی اعتراض ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ الزام ہم پر قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہماری اور منکرین حدیث کی نزاع تو علم حدیث کے اعتبار اور اتباع میں ہے اور اس حدیث پیش کردہ میں ممانعت کتابت سے ہے نہ کہ ممانعت اتباع جیسا کہ وجہ اول میں مذکور ہے۔ پس جب پیروی منع نہ ہوئی۔ اور تحدیث و حفظ احادیث اس حدیث کی رو سے بھی امر جائز بلکہ مندوب ہوا تو جو علم ہمارے حافظہ میں محفوظ ہے اور اس پر ہمارا عمل درآمد بھی ہے۔ اس کے کتابت میں لانے سے اس میں کیا خرابی پیدا ہو گئی؟ بلکہ اس کی حفاظت تو اب دوبالا ہو گئی ۔کہ سینے میں محفوظ ہونے کے علاوہ سفینے (نوشت) میں بھی محفوظ ہو گیا۔ پس ترقی کی صورت میں وہ اور بھی محفوظ ہو گیا۔ اور چونکہ عہد نبوت میں قرآن مجید سے مخلوط ہو جانے کا اندیشہ تھا اس لئے قران خود بھی لکھوایا۔ اور اس کے لکھنے کی ترغیب بھی دی اور حدیث کے لکھنے سے منع کیا۔ لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد التباس واختلاط کا اندیشہ جاتا رہا۔ تو اس کی کتابت میں کوئی حرج نہ رہا کیونکہ اصل کتابت سے ممانعت نہ تھی۔ جیسا کہ متن کے مشرح و مفصل بیان سے معلوم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ محدثین (شکر اللّٰہ مساعیہم الجمیلۃ) نے اسے مدون کرنا شروع کیا اور اس کے نتائج سے آج تک اسلامی دنیا متمتع ہوتی چلی آئی ہے۔ اس حدیث لا تکتبوا عنی۔۔۔ الخ کا باقی بیان بالتفصیل انشاء اللہ آگئے آئے گا فانتظروا۔