کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 343
عن جابر بن سمرۃ قال کانت للنبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم خطبتان یجلس بینہما یقراء القرأان ویذکر الناس (جلد اول صفحہ۲۸۳) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے کرتے۔ اور ان کے درمیان جلسہ کرتے (بیٹھتے) اور قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ چونکہ قرآن اور بیان قرآن ہر دو آپ ہی کی زبان وحی ترجمان سے نکلے تھے۔ اور ہر دو عربی زبان میں تھے جو آپ کی زبان تھی۔ اس لئے سخت اندیشہ تھا کہ متن اور شرح مخلوط اور کلام خدا اور کلام رسول ممزوج نہ ہو جائے جیسا کہ کتب سابقہ میں ہو گیا۔[1]اس لئے آپ نے کتابت حدیث سے یعنی قرآن کی تفسیر و تشریح جو آپ فرمایا کرتے تھے اس کے لکھنے سے منع فرما دیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ عن ابی سعید نالخدری ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم قال لا تکتبوا[2]عنی و من کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ و حد ثوا عنی ولا
[1] کتب سابقہ میں متن و شرح کے اختلاط و امتزاج کا اعتراف تاریخ دان پادریوں کو بھی کرنا پڑا ہے۔ [2] منکرین حدیث اس حدیث کو اس امر میں پیش کیا کرتے ہیں کہ جب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت حدیث سے منع فرما دیا تھا۔ تو اس کی پیروی کہاں واجب رہی؟ یہ انکی سخت بے سمجھی اور بے علمی کی دلیل ہے۔ اول اس لئے کہ ممانعت تو کتابت سے ہے نہ متابعت سے۔ پس اس حدیث کو ممانعت متابعت میں پیش کرنے کے کیا معنی؟ پیروی و اطاعت کے لئے کتابت ضروری نہیں ۔ جیسے کہ قران مجید جس طرح کہ کتابت میں آنے کے بعد واجب الاطاعت ہے۔ اسی طرح کتابت و تحریر میں آنے سے پہلے بھی واجب الاطاعت تھا۔ چونکہ حصول علم بغیر تحریری فرمان کے صرف زبانی تحدیث و نقص روایت سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے اسی حدیث میں ممانعت کتابت حدیث کے حکم کے ساتھ ہی فرما دیا وحدثوا عنی یعنی (قرآن کے سوا جو کچھ میں کہا کروں اسے) میری طرف سے زبانی بیان کیا کرو۔ ہاں زبانی روایت میں کمی بیشی کا اندیشہ تھا سو اس کی رکاوٹ کے لئے ساتھ ہی فرما دیا من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار یعنی ’’جو کوئی جان بوجھ کر کسی امر میں میری طرف جھوٹی نسبت کرے گا۔ اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنانا چاہئے۔‘‘ دیگر یہ کہ اس ممانعت کی وجہ سے اس علم کا اعتبار نہیں تو یہ سند بھی تو اسی علم کی کتب مدونہ سے