کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 342
حالات اور دواوین عرب (قصائد و خطب) اور نسب نامے محفوظ رکھتے تھے۔[1] خلاصتہ المرام و نتیجہ الکلام یہ کہ جن ضرورتوں کی بنا پر بعد کے زمانوں میں حدیث نبوی مدون کی گئی وہ ضرورتیں عہد نبوت اور عصر صحابہ میں لاحق نہیں ہوئی تھیں ۔ دوسری وجہ اس زمانہ میں حدیث جمع نہ ہونے کی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عہدنزول قرآن کا زمانہ تھا۔ اور آنحضرت جس طرح مبلغ قرآن تھے۔ اسی طرح مبین و شارح قرآن بھی تھے۔[2]اپنے وعظوں اور خطبوں میں قرآن مجید مع تشریح مطالب بیان کرتے تھے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔
[1] اس امر کی صحت میں کچھ بھی کلام نہیں کہ جب جسمانی اعضاء کو حرکت میں نہ لائیں اور ان سے ان کے مناسب کام نہ لیں جن کے لئے خالق حکیم نے انہیں بنایا ہے تو وہ ضعیف و کمزور ہو جاتے ہیں اور محل عوارض بن جاتے ہیں ۔ امراء و رؤسا باوجود مقوی غذاؤں میں پلنے کے کیوں کمزور و سست اور بے ہمت ہوتے ہیں اور غرباء و محنتی لوگ باوجود خشک روٹی کھانے کے اور وہ بھی کبھی پوری اور کبھی ادہوری کبھی بروقت اور کبھی بے وقت پانے کے کیوں قوی تندرست اور توانا و چست ہوتے ہیں ؟ اسی وجہ سے نہ کہ وہ اپنے اعضاء کو محنت و حرکت سے بچا کر ان کے آرام کے لئے خارجی اسباب پر زندگی گزارتے ہیں اور یہ ’’بیچارے مصیبت کے مارے‘‘ اپنے اعضاء کو عمل میں لا کر محنت و مشقت سے زندگی بسر کرتے ہیں جس سے ان کے قوی نظام طبعی کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔ اسی طرح جو لوگ قوت حافظہ سے کام نہیں لیتے یا کم لیتے ہیں ۔ اور بات بات میں تحریر کے (جو ایک خارجی ذریعہ یاد داشت ہے) محتاج ہوتے ہیں ۔ ان کے حافظے کمزور ہو جاتے ہیں ۔ اگرچہ ان کے معلومات کثرت مطالعہ سے وسیع ہو جاتے ہیں اور ان کا دماغ اس طرح کی مشق سے ہر قسم کی بات کو اخذ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو صرف ’’قوت حافظہ‘‘ میں گفتگو ہے۔ نہ کہ دماغ کی دوسری قوتوں میں ۔ کیونکہ تحریر پر بھروسا کرنے سے حافظہ سے کام کم لیا جاتا ہے۔ تو رفتہ رفتہ کمزور ہو جاتا ہے اور بغیر تحریر کے گزارہ نہیں آتا۔ ایسے لوگ جب کسی ایسی قوم کی قوت حافظہ کی نسبت جن میں تحریر کا رواج بہت کم ہو۔ اور وہ زیادہ تر فطری قوت حافظہ سے کام لیتے ہوں کچھ سنتے ہیں تو بہت تعجب کرتے ہیں اور اسے قریبا نا ممکن اور افسانہ جان کر انکار کر دیتے ہیں اور مقولہ المرء یقیس علی نفسہ (ہر شخص دوسرے کو اپنے پر قیاس کرتا ہے) کے مطابق ان کو بھی اپنے جیسے جانتے ہیں ۔ حالانکہ دونوں کے حالات زندگی اور طریق معاشرت اور وسائل علم اور دماغی قوتوں کی تربیت میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ [2] چنانچہ فرمایا و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم (نحل پارہ ۱۴) اسی امر کا کسی قدر مفصل بیان حصہ اول میں ہو چکا ہے۔