کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 338
میں (کامل) ہوتی ہے کیونکہ یہ (کتابت) بھی منجملہ صنائع کے ہے اور ہم سابقًا بیان کر چکے ہیں کہ اس کا بھی یہی حال ہے اسی لئے ہم اکثر بدیوں کو امی پاتے ہیں کہ وہ نہ تو لکھ سکتے ہیں اور نہ پڑھ سکتے ہیں ۔ اسکے بعد خاص کر قیبلہ مضر[1]کی نسبت جس کی ایک شاخ قبیلہ قریش بھی ہے۔ لکھتے ہیں ۔ واما مضر فکانوا فی البدو العبد عن الحضر من اھل الیمن واھل العراق وھل الشام و مصر فکان الخط العربی لاول الاسلام غیر بالغ الی الغایۃ من الاحکام والا تقان و الاجارۃ ولا الی التوسط یمکان العرب من البداوۃ والتوحش و بعد ہم عن الصنائع (مقدمہ ابن خلدون صفحہ ۳۵۰) لیکن (قبیلہ) مضر سو بدویت میں دوسروں سے بہت بڑھ کر تھا اور اہل یمن و اہل عراق اور اہل شام اور اہل مصر کی نسبت مدنیت سے بہت دور تھا۔ پس خط عربی شروع اسلام میں پختگی اور عمدگی میں نہایت کو بلکہ توسط کو بھی نہیں پہنچا تھا کیونکہ عرب صحرا نشین تھے اور صنائع سے بہت دور (ناآشنا) تھے۔ الغرض واقعات کو محفوظ رکھنے کے لئے عرب کی عام عادت حفظ اور درائیت تھی نہ کہ تحریر و کتابت ان کو اس ملکہ میں نہایت درجہ کا کمال حاصل تھا۔ خطب و قصائد سب کچھ بر زبان محفوظ رکھتے تھے اور جب چاہتے صفحہ سینہ سے پڑھ سناتے۔ اور یہ قدرتی امر ہے کہ جس عضو و قوت سے اس کا مناسب کام لیا جائے اس کی قوت و ملکہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی معنی میں انگریزی زبان میں کہتے ہیں پریکٹس میکس مین پرفیکٹ
[1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مضر کی اولاد سے ہیں ۔ کیونکہ قبیلہ مضر اپنے جد اعلی مضر بن نزار کی طرف منسوب ہے جو چار واسطوں سے نضر بن کنانہ کا جد اعلی ہے اور نضر بن کنانہ کی اولاد کو قریش کہتے ہیں پس نضر سے مضر تک کرسی نامہ یوں ہے نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب نامہ میں بھی نضر سے مضر تک یہی سلسلہ اجداد ہے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مضر کی اولاد سے ہوئے۔ حدیث میں وارد ہے تم مضر اور ربیعہ کو برا مت کہو وہ دونوں مومن تھے (لسان العرب)