کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 332
اول: یوں کہ آپ نے اپنے طریق عمل پر چلنے کی تاکیدیں کیں اور موکد تاکیدوں کے ہوتے ہوئے ہو نہیں سکتا کہ صحابہ جیسی فرمانبردار اور جاں نثار جماعت آپ کے حکمت آموز اقوال اور بانظام افعال کو ضائع جانے دے چنانچہ کتب حدیث میں ’’اعتصام بالسنتہ‘‘ کا باب خصوصیت سے باندھا گیا ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف کے اسی باب سے بعض احادیث نقل کی جاتی ہیں ۔
(۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انس سے روایت ہے کہ تین شخصوں کی جماعت آنحضرت کی عبادت کا حال پوچھنے کے لئے آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئی۔ جب ان کو بتایا گیا تو انہوں نے اس (مقدار) کو تھوڑا خیال کر کے آپس میں کہا کہ ہم آنحضرت سے کہاں مل سکتے ہیں ؟ آپ کو تو خدا تعالی نے ہر طرح کی تقدیم[1]و تاخیر کی لغزشوں سے معاف کر دیا ہے۔ پس ان میں سے ایک کہنے لگا کہ میں تو ہمیشہ ساری رات نماز ہی میں گذار دیا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھا کروں گا اور کبھی نہیں توڑوں گا۔ تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا۔ اور کبھی شادی نہیں کروں گا (اتنے میں ) آنحضرت تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا تم وہی ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا۔ سنو خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ خدا (کے جلال) سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ (اس کی نافرمانی ہے) پرہیز کرنے والا ہوں ۔ لیکن میں
[1] اس تقدیم و تاخیر سے مراد یہ ہے کہ بعض وقت انسان پر دو یا زیادہ کام بیک وقت آ پڑتے ہیں ۔ ہر چند کہ وہ سب جائز ہوتے ہیں لیکن عملی صورت میں ایک کام کو پہلے کیا جاتا ہے اور دوسرے کو پیچھے یہ عملی ترتیب کبھی مناسب وقت و مصلحت پڑتی ہے اور کبھی نہیں پڑتی کیونکہ دماغی تدبیروں میں خطاب و صواب ہر دو امر ممکن ہوتے ہیں ہر چند کہ یہ اجتہادی امر ہے لیکن خطا سے انسان کی طبیعت پر بوجھ ضرور پڑتا ہے۔ انبیا علیہم السلام عمدا ًگناہ نہیں کرتے۔ وہ معصوم ہوتے ہیں سو اسی بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (فتح پ۲۶) اور اس کو ذنب بوجہ لغزش و خطا کے کہا ہے اور سیاسی کاموں اور نقل و حرکت میں تقدیم و تاخیر ہو جاتی ہے۔ اور سورہ فتح جس کی مذکورہ بالا آیت ہے سیاسی امور کے متعلق صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی اور اسی معنی میں آنحضرت دعا کیا کرتے تھے۔ اللھم اغفرلی ما قدمت و ما اخرت (حصن حصین)