کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 303
غلام کچھ مدت اس کے پاس رہا پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو بائع اور مشتری دونوں وہ جھگڑا آنحضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جناب میں لائے تو آپ نے وہ غلام بائع کو واپس کر دیا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ یہ مشتری میرے غلام سے نفع اٹھاتارہا ہے۔ آپ نے فرمایا الخراج بالضمان[1] یعنی محاصل ضمان کی وجہ سے اسی کا حق ہے۔ یہ صورت جو اوپر مذکور ہوئی ہے اسے خیار عیب کہتے ہیں اور حنفیوں کے ہاں بھی مسلم ہے چنانچہ ہدایہ میں ہے۔ واذا طلع المشتری علی عیب فی المبیع فہو بالخیاران شاء اخذہ بجمیع الثمن وان شاء ردہ لان مطلق العقد یقتضی وصف السلامتہ فعند فواتہ یتخیر کیلا یتضرر بلزوم مالا یرضی بہ۔[2] ’’اور جب خریدار مال بیع میں کسی عیب پر آگاہی پاوے تو وہ مختار ہے اگر چاہے تو اسے پوری قیمت کے عوض رکھ لے اور اگر چاہے تو اسے واپس پھر دے کیونکہ سودے کا پورا ہونا بالاطلاق عیب سے سلامت ہونے کو چاہتا ہے۔ پس سلامتی کے نہ ہونے کی صورت میں مشتری مختار ہے تاکہ وہ ایسی شے کے لازم ہو جانے سے ضرر نہ پاوے جس پر وہ راضی نہیں ۔‘‘ پھر عیب کی تعریف اس طرح کی ہے۔
[1] ’’الخراج بالضمان‘‘ کی تشریح میں مولانا وحید الزمان مرحوم وحید اللغات میں فرماتے ہیں ۔ مثلاً ایک غلام خریدا اس کو کام میں لگایا کچھ منفعت کمائی اب اس میں ایسا عیب نکلا جو بائع نے مشتری کو نہیں بتلایا تھا۔ اور مشتری نے اس عیب کی وجہ سے وہ غلام بائع کو پھیر دیا۔ تو مشتری اپنی قیمت بائع سے واپس لے لے اور غلام کی کمائی جو مشتری کے پاس ہوئی وہ مشتری ہی کی ہو گی اس لئے کہ وہ اس غلام کا ضامن اور جواب دہ تھا اگر وہ ہلاک ہو جاتا تو اسی کا نقصان ہوتا۔ شریح رحمہ اللہ جو کوفہ کے قاضی تھے انہوں نے ایک مقدمہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا کہا عیب دار غلام کو پھیر دے اور جو کچھ اس نے کمائی کی ہے وہ ضمان کی وجہ سے تیری ہی ہے (ص ۲۴ حرف الخاء) قلت کذافی النہایۃ للامام ابن الاثیر رحمہ اللہ اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔میر سیالکوٹی [2] ہدایہ کتاب البیوع باب خیار المعیب۔