کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 277
عن ابی ہریرۃ ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لا تصروا الابل والغنم فمن ابتاعہا بعد ذلک فھو بخیر النظرین بعد ان یحلبہا ان رضیہا امسکہا وان سخطہا ردھا وصاعا من تمر۔ متفق علیہ (منتقی)
بروایت بخاری و مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ بند نہ کرو اور جو ایسی حالت کے بعد اس جانور کو خریدے تو اسے دونوں امروں میں سے ایک کا اختیار ہے بعد اس کے کہ اسے دوہ (کر آزما) لے اگر اسے پسند ہو تو رکھ لے اور اگر ناپسند ہو تو واپس کر دے اور ایک صاع[1] کھجوریں (ساتھ دیوے)
تصریہ سے یہ مراد ہے کہ جانور کے تھنوں میں دودھ روک رکھا جائے بعض لوگ ایسا کرتے ہیں ۔ تاکہ اس جانور کا دودھ زیادہ معلوم ہو اور خریدار اسے شوق سے خرید لے۔ چونکہ اس میں دھوکہ پایا جاتا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا اور فرمایا کہ جو شخص ایسا جانور خریدے تو اسے واپسی کا اختیار ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر واپس کرے تو اس دودھ کے عوض جو اس نے دوہ کر حاصل کیا ہے ایک صاع کھجوریں بھی ساتھ دیوے۔ اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ اور مسلم رحمہ اللہ کے علاوہ دیگر ائمہ حدیث نے بھی روایت کیا ہے مثلاً امام مالک‘ امام ابو داؤد‘ امام ترمذی اور امام نسائی رحمہم اللہ اجمعین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث اپنے مطلب میں بالکل صاف ہے اور اس کی حکمت اور معقولیت عیاں ہے کہ آپ دھوکے فریب کے سودے سے منع فرماتے ہیں ۔ اور یہ حکم آپ کے منصب ویزکیھم[2] (جمعہ پ۲۸) کے بالکل مناسب ہے۔
[1] ایک صاع عراقی کا وزن چار سیر انگریزی کے برابر ہوتا ہے اور حجازی صاع کا وزن قریبا پونے تین سیر کے برابر۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے صدقہ فطر میں عراقی چھوڑ کر امام مالک رحمہ اللہ کی موافقت میں حجازی کو اختیار کیا (نافع کبیر حاشیہ جامع صغیر از مولانا عبد الحئی صاحب لکھنوی ص۲۵ نوٹ نمبر۸)۔
[2] یعنی سورہ جمعہ میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ میرا رسول لوگوں کا تزکیہ کرتا ہے ایسے ایسے احکام سکھاتا ہے جس سے لوگ اعتقادی و اخلاقی و عملی خباثتوں اور ظاہری اور باطنی گندگیوں سے پاک ہو جائیں نیز اپنی پاک مصاحبت سے ان لوگوں کو قلبی اور عملی آلودگیوں سے پاک کرتا ہے۔