کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 269
اسی طرح کشف الاسرار شرح[1] اصول بزدوی میں اس مسئلہ کے متعلق بسط سے بیان کرنے کے بعد کہا ہے۔ وقد ثبت عن ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ انہ قال ماجاء ناعن اللّٰہ وعن رسولہ علیہ السلام فعلی الراس والعین ولم ینقل عن احد من السلف اشتراط الفقہ فی الراوی فثبت ان ھذا القول مستحدث۔[2] امام ابو حنیفہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پہنچ جائے وہ سر آنکھوں پر (منظور) ہے اور سلف (امت) میں سے راوی کی فقاہت کا شرط ہونا کسی سے بھی منقول نہیں ۔ پس ثابت ہو گیا کہ یہ قول نیا (بدعت) ہے۔ کشف الاسرار میں اس مسئلہ کے متعلق جو مبسوط بحث لکھی ہے اس کا ذکر کر کے بعض مقالات علامہ تفتازانی نے بھی شرح توضیح میں لکھے ہیں ۔ چنانچہ فرمایا۔ واما ثالثا فلانہ نقل عن کبار الصحابۃ انھم ترکوا القیاس بخبر الواحد الغیر المعروف بالفقہ وقد نقل صاحب الکشف ما یشیرالی ان ھذا الفرق مستحدث وان خبرالواحد مقدم علی القیاس من غیر تفصیل۔[3] تیسرے اس وجہ سے کہ بڑے بڑے صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے غیر فقیہ صحابی کی خبر سے قیاس کو ترک کر دیا اور صاحب کشف الاسرار نے ایسا نقل کیا جس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ فرق بدعت ہے اور نیز یہ کہ خبر واحد بہرحال قیاس پر مقدم ہے۔
[1] صاحب کشف الاسرار امام ابو حنیفہ کا قول دربارہ متابعت قرآن و حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ فقاہت راوی کی شرط سلف میں سے کسی سے بھی منقول نہیں ۔ لہٰذا یہ بات نئی گھڑی ہوئی اور بدعت ہے۔ پس اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس قول کے قائل نہ تھے۔ (کشف الاسرار جلد ثانی ص۷۰۳ مطبوعہ مصر) [2] ایضاً [3] تاریخ مصری جلد ۱ ص ۴ ۱)