کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 232
بات کے کہہ دینے پر مطمئن ہو گئے کہ ہم نے اپنے آباو اجداد کو اسی طریق پر پایا ہے۔ اور ہم تو انہیں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں ۔ اور اس امر کی شکایت اللہ ہی کی طرف ہے۔ اور اسی سے مدد مطلوب ہے‘ اور اسی پر اعتبار و اعتماد ہے۔
شاہ صاحب نے جس گروہ کی نسبت یہ کہا ہے کہ ’’وہ زمین میں حجتہ اللہ ہے اور جس نے ان کو چھوڑا وہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔‘‘ اس سے مراد فرقہ اہل حدیث ہے جس کا ذکر اوپر کی عبارات میں برابر کر رہے ہیں ۔ اور اس میں اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جو صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت سے سابقاً گذر چکی ہے۔
اصحاب تخریجات نے جب اپنے مقتداؤں کے اقوال کو اصول بنا کر ان پر تفریعات شروع کر دیں تو اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ ہوتے ہوتے نصوص شرعیہ سے بے پرواہی اور ناواقفی ہو جائے اور آخر کار یہ نوبت آجائے کہ ائمہ کے اقوال کو بالاستقلال دلیل مانا جائے اور ان کی دلیل و سند طلب نہ کی جائے۔ آخر یہ ہو کر رہا۔ اور اس سے تقلید کی جڑ مضبوط ہو گئی۔ چنانچہ حنفی علماء اصول تقلید کی بنا اسی بات پر رکھتے ہیں کہ اجتہاد مطلق ائمہ اربعہ پر ختم ہو گیا۔[1]جس کا آخری سال ۲۴۰ھ یعنی امام احمد رحمہ اللہ کی وفات ہے۔ اور اجتہاد فی المذہب علامہ نسفی رحمہ اللہ المتوفی ۵۳۷ھ پر ختم ہو گیا۔[2]
لہٰذا اب کوئی شخص براہ راست نصوص شرعیہ سے کوئی زائد حکم استنباط نہیں کر سکتا۔ اور نہ بغیر وساطت مجتہدین کے ان پر عمل کر سکتا ہے۔ حتی کہ بعض نے تو یہاں
[1] چنانچہ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں بحر العلوم لکھنوی فرماتے ہیں ۔
ثم ان من الناس من حکم بوجوب الخلومن بعد العلامۃ النسفی واختتم الاجتہاد بہ وعنوا الا جتہاد فی المذھب واما الاجتہاد المطلق فقالوا اختتم بالائمۃ الاربعۃ حتی اوجبوا تقلید واحد من ھولاء علی الامۃ وھذا کلہ ھوس من ھو ساتھم لم یاتوا بدلیل ولا یعباء بکلا مہم وانما ھم من الذین حکم الحدیث انھم افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا ولم یفھموا ان ھذا الاخبار بالغیب فی خمس لا یعلمھن الا اللّٰہ تعالی (فواتح مطبوعہ مصر مع مستصفی للامام الغزالی رحمہ اللہ ص۳۹۹ و ص۴۰۰ جلد ثانی)
[2] ایضاً