کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 223
حدیث میں نئے سرے سے جان ڈال دی۔ حدیث نبوی کے پرکھنے اور سمجھنے میں کچھ غلط فہمیاں ہونے لگیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کر دیا۔ آپ نے سب سے پہلے علم اصول فقہ میں تصنیف کر کے اس فن کی بنیاد ڈالی۔[1] مختلف احادیث میں جمع و تطبیق کا فن بالکل اچھوتا تھا۔ سب سے پہلے آپ ہی نے اس مضمون کو لکھا[2]اور اس کے اصول و قواعد بیان کئے۔ مرسل روایت کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ مطلقاً حجت جانتے تھے۔ کیونکہ ان کے زمانہ میں سلسلہ روایت میں آنحضرت تک واسطے کم تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تک واسطے زیادہ ہو گئے۔ نیز آپ نے دیکھا کہ روایۃ التباعی عن التابعی عن التابعی کی مثالیں بھی بہت ہیں اس لئے آپ نے اس کے متعلق چھان بین کی۔[3]علم حدیث کی نصرت کی وجہ سے آپ کا لقب ’’ناصر الحدیث‘‘ پڑ گیا۔ رحمہ اللہ۔ خاکسار نے سفر مصر میں آپ کی قبر کی زیارت کی اور مسجد جامع شافعی رحمہ اللہ میں نماز جمعہ ادا کی۔ (۶) امام یزید بن ہارون واسط میں تھے۔ ۱۱۸ھ؁ میں پیدا اور ۲۰۶ھ؁ میں فوت ہوئے۔ (۷) امام عبد الرزاق بن ہمام صنعانی رحمہ اللہ ۱۲۶ھ؁ میں پیدا اور ۲۱۱ھ؁ میں ۸۵سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ انہوں نے بھی اس فن میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں ۔ یہ سب بزرگ حدیث نبوی کے شیدائی اور سنت کے فدائی تھے۔ قرآن و حدیث کے مقابلے میں کسی شے کی حقیقت کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے اور کسی خاص شخص کی رائے اور قیاس کی پابندی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ رحمہم اللہ اجمعین۔ قرون مشھود لھا بالخیر:۔ یہی وہ زمانے ہیں جن کی بابت حدیث شریف میں
[1] کشف الظنون جلد اول ص۱۱۴ بحث علم اصول و اتحاف النبلاء مقصد دوم ص۳۴۵۔ [2] اتحاف النبلاء میں یہ بھی ہے کہ امام عبد الرحمن بن مہدی نے (جو کبار محدثین سے ہیں ) امام شافعی رحمہ اللہ کو لکھا کہ ہمارے لئے ایسی کتاب تصنیف کیجئے جس میں قرآن شریف کے مطالب اقوال اخیار کے ساتھ ہوں اور حجیت اجماع اور قرآن و حدیث کے ناسخ و منسوخ کا بیان ہو۔ پس آپ نے کتاب الرسالتہ تصنیف کیا یہ عاجز کہتا ہے یہ رسالہ امام شافعی رحمہ اللہ کی کتاب الام کے ابتداء میں مصر میں چھپ گیا ہے اور میرے پاس موجود ہے۔ اس میں بڑے بڑے دقیق مسائل حل کئے ہیں ۔ [3] اس کی تفصیل کتب اصول حدیث میں مذکور ہے۔