کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 211
فی کتاب اللّٰہ فان وجد فیہ ما یقضی بہ بینہم قضی بہ وان لم یکن فی الکتاب وعلم من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی ذلک الامر سنۃ قضی بہ فان اعیاہ خرج فسال المسلمین وقال اتانی کذ او کذا فھل علمتم ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قضی فی ذلک بقضاء فربما اجتمع الیہ النفس کلھم یذکر من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہ قضاء فیقول ابو بکر الحمد للّٰہ الذے جعل فینا من یحفظ علی نبینا فان اعیاہ ان یجد فیہ منہ من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمع رؤس الناس وخیارھم فاستشادر فاذا اجتمع رائھم علی امرقضی بہ (مسند دارمی ص۳۲‘ ۳۳)[1] جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ صدیق کے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو (پہلے) آپ کتاب اللہ میں نظر کرتے اگر اس میں پاتے تو اسی کے مطابق فیصلہ کرتے اور اگر کتاب اللہ میں نہ پاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پاتے تو اسی کے موافق فیصلہ کرتے اور اگر کسی طرح ان کو کچھ نہ ملتا تو دیگر صحابہ سے پوچھتے اور کہتے کہ میرے پاس یہ معاملہ آیا ہے تم کو اس بارے میں کچھ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ بعض دفعہ سب لوگ ان کو بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ کیا تھا۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے خدا کی تعریف ہے جس نے ہم میں ایسے لوگ پیدا کر رکھے ہیں جو ہمارے نبی کے اقوال ہمارے لئے یاد رکھ کر ہم کو سناتے ہیں اور اگر ان کو حدیث نہ ملتی تو اکابر صحابہ کو جمع کر کے
[1] اس حدیث کے راوی میمون بن مہران بزرگ تابعی ہیں خلیفہ عمر بن عبد العزیز ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ چنانچہ ان کو جزیرہ کے خراج اور قضا پر مقرر کیا۔ امام احمد ان کی بہت تعریف کیا کرتے تھے انہوں نے خود تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن عباس حضرت ابن عمر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لمبی عمریں پائیں روایت کرتے ہیں (تہذیب التہذیب وغیرہ) پس خلافت صدیقی کا دستور العمل ان کو انہی حضرات سے معلوم ہوا ہے۔