کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 196
مذہب اہلحدیث ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گیا۔ اور مخالف و موافق تمام آپ کے کمالات علمیہ و فضائل عملیہ پر متفق ہو گئے۔ اور آپ کی وفات پر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مقولہ الفرق بیننا وبین اھل البدع یوم الجنائز کی تصدیق ہو گئی۔ اور جب آپ کا جنازہ اٹھایا گیا تو کثرت ازدہام سے شہر دہلی کے کشادہ رستے بھی تنگ ہو گئے۔ ہزارہا لوگ بارش کی طرح آنسو بہاتے ہوئے جنازے کے ساتھ ساتھ جاتے تھے۔ آپ کے دیکھنے والے اور ہمارے بیان کی تصدیق کرنے والے سینکڑوں ہزاروں مسلمان ابھی تک زندہ موجود ہیں غفر اللّٰہ لنا ولہم ۔[1] غرض اہلحدیث بیچارے ہمیشہ اپنے مخالفین کے قولی و فعلی مظالم کے تختہ مشق بنے رہے اور یہ بے نفس ہمیشہ کفوا ایدیکم[2]پر عمل پیرا رہے۔ اور بمقتضائے آیت وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا [3] (فرقان پ۱۹) اور بفجوائے حدیث صحیح بخاری المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (کتاب الایمان) قولا و فعلا دوسروں کو ایذا دینے سے بچتے رہے۔ خدائے دو جہان ان کو نیک جزا عطا کرے کما قال إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (زمر پ۲۳) ٭٭٭
[1] یہ سارا نقشہ ہم سے ہمارے دوست حاجی نبی بخش صاحب بزاز سیالکوٹی نے بیان کیا۔ جو ان دنوں اپنی تجارت پارچہ کے لئے دہلی گئے ہوئے تھے اور شامل جنازہ تھے میں اس وقت جلسہ ندوۃ العلماء کی تقریب پر امرتسر میں تھا۔ [2] بند کرو ہاتھ اپنے [3] اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو چلتے ہیں اوپر زمین کے آہستہ اور جب مخاطب ہوتے ہیں ۔ جاہلوں سے تو کہہ دیتے ہیں سلام۔