کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 165
اب بھی اہل حدیث کے مخالف ان کے کئی طرح کے نام رکھتے ہیں کوئی ’’نجدی‘‘ کہتا ہے کوئی ’’وہابی‘‘ کہہ کر بدنام کرتا ہے کوئی ’’غیر مقلد‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ وہ یاد رکھیں کہ ایسا کرنے والوں کو حضرت پیر صاحب ’’بدعتی‘‘ کہتے ہیں ۔ ہم ان سب جدید ناموں سے بیزار ہیں ۔ سوائے اس اپنے پیارے لقب کے جس میں اس محبوب رب العالمین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف نسبت پائی جائے۔ یعنی اہل حدیث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ع
کسی کا ہو رہے کوئی نبی کے ہو رہے ہیں ہم
حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ ۴۹۱ھ میں پیدا ہوئے اور ۵۶۱ھ میں بغداد میں فوت ہوئے اور مولوی عبد الحکیم صاحب سیالکوٹی ۱۰۶۷ھ میں سیالکوٹ میں فوت ہوئے۔
اسی طرح حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ اسی کتاب کے ص۲۱۲ پر فرقہ ناجیہ کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ ان کا نام اصحاب الحدیث ہے۔ حضرت پیر صاحب کی بابت ہم الگ فصل میں ثابت کریں گے کہ آپ مقلد نہیں تھے بلکہ اہل حدیث تھے۔
(۱۰)امام المتکلمین امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں بذیل آیت وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا (بقرہ پ۱) اہل حدیث کا ذکر کرتے ہیں (جلد اول ص۲۳۴ مطبوعہ مصر) امام رازی رحمہ اللہ ۶۰۶ھ میں فوت ہوئے ہیں ۔ رحمہ اللہ
[1]
[1] ذشتہ سے پیوستہ
سوال: محدثین علم فقہ پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟ بعض شخص کہتے ہیں کہ محدثین علم فقہ پر عمل نہیں کرتے۔
جواب: علمائے محدثین بیک مذہب از مذاہب مجتہدین نبا شند پس بعضے اعمال ایشاں مطابق کتب فقہ می باشد و بعضے دیگر مطابق کتب دیگر۔ ص۱۱۶ جلد دوم)
اس سے علمائے محدثین کا مسلک تو معلوم ہو گیا۔ اب عوام الناس جو مسلک محدثین پر عمل کریں ان کے لئے امام ابن حزم کا حوالہ ملاحظہ کریں جو اہل سنت کے ضمن میں حنابلہ و اہل حدیث کے بیان میں گذر چکا ہے۔ حافظ ابن حزم سپینی ہیں ۔ جو ۴۵۶ھ میں فوت ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محدثین کے مسلک پر عام لوگ عمل کرنے والے پانچویں صدی میں سپین تک پھیلے ہوئے تھے اور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے ہیں ۔