کتاب: تاریخ اہل حدیث - صفحہ 164
اس مقام پر ’’اہل الاثر‘‘ سے مراد اہل حدیث ہیں ۔ شرح نخبہ جو اصول حدیث کی مشہور و متداول کتاب ہے اس کا پورا نام یہ ہے۔ شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر۔‘‘
نیز یہ کہ فخرنا جناب مولوی عبد الحکیم صاحب فاضل سیالکوٹی اس عبارت کا ترجمہ فارسی ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’پس نشان اہل بدعت عیب کر دن سست در اہل حدیث۔‘‘
اور اس فصل میں حضرت پیر صاحب نے جتنی دفعہ لفظ اہل الاثر لکھا ہے مولوی صاحب ممدوح نے سب جگہ اس کا ترجمہ اہل حدیث ہی لکھا ہے اور ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ اہل الاثر۔ اہل حدیث اور اصحاب حدیث سب اہل حدیث ہی کے لقب ہیں ’’لفظ بگذاری سوئے معنی روی‘‘
عباراتنا شتی وحسنک واحد ذوکل الی ذاک الجمال یشیر
چنانچہ حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ عبارت مندرجہ بالا کے کچھ آگے یہ ذکر کر کے کہ بدعتی لوگ ’’اہل حدیث‘‘ کے طرح طرح کے نام رکھتے ہیں ۔ لکھتے ہیں ۔
ولا اسم لھم الا اسم و احد وھو اصحاب الحدیث (ص۱۹۸)
’’اور ان کا تو صرف ایک ہی نام ہے یعنی اہل حدیث‘‘[1]
[1] بعض مقلدین کہا کرتے ہیں کہ حضرت پیر صاحب قدس سرہ اور دیگر مصنفین رحمہ اللہ جنہوں نے اہل حدیث کی تعریف کی ہے اس سے ان کی مراد یہ وہابی لوگ نہیں ۔ بلکہ گروہ محدثین ہے جو ائمہ حدیث تھے اور وہ مجتہد تھے اور مجتہد پر کسی دیگر کی تقلید واجب نہیں ۔ ایسا کہنے والے حضرات تحقیق و فہم سے قاصر ہیں ۔ ان کے قول سے تو یہ ثابت ہو گیا کہ محدثین کسی کے مقلد نہ تھے۔ اب یہ سوچنا چاہئے کہ ان کی محدثین کی روایات پر عمل کرنے والے ان کے زمانے میں غیر مجتہد بھی تھے یا نہیں ؟ اس کا جواب نفی میں تو ہو سکتا نہیں ۔ کیونکہ ان کی روایات کے دفاتر اب تک محفوظ ہیں ۔ اور دنیا جہان کے مسلمان ان پر عمل کر رہے ہیں ۔ حتی کہ حضرات مقلدین بھی اپنے مذہب کی تائید انہی دفاتر حدیث پیش کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ۔ تو ان کے وقت میں ان پر عمل کرنے والے کیوں نہ تھے۔ اگر تھے اور ضرور تھے تو ثابت ہو گیا کہ بغیر کسی معین شخص کی تقلید کے احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہ پر عمل کرنے والے لوگ ہر زمانہ میں چلے آئے ہیں ۔ اس کی تائید میں شاہ عبد العزیز صاحب رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا۔