کتاب: تربیت اولاد - صفحہ 218
برائی سے بچنا چاہیے۔ وہ ابھی اتنا تجربہ کار نہیں کہ اپنے مسائل خود حل کرلے۔آپ اُسے بتائیں کہ تمہارے مسئلے میں اس جگہ خرابی ہوگئی ہے اور تمہیں یہ مسئلہ اس طرح حل کرنا ہے۔اسے حکم نہ دیں ۔انداز دوستانہ رکھیں ۔اسے محبت، توجہ، رہنمائی سب کی ضرورت ہے۔ بچے کے مسائل سن کر بطور ماں adjustکریں ۔کچھ مسائل فوری حل کیے جاسکتے ہیں ۔ کچھ مسائل ہفتہ واربنیادوں پر اور کچھ مسائل لمبی پلاننگ سے حل ہوں گے تو آپ نے ان تمام مسائل میں اپنی طاقت کی حد تک رہنمائی دینی ہے۔ آخری بات بچے کو کبھی چھوڑنا نہیں ۔ ماں کی ویسے بھی اللہ نے فطرت بنائی ہے کہ بچے اس کی زندگی کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں وہ دادا، نانا بھی بن جائے لیکن ماں کے لیے بچہ ہی ہوتا ہے۔زندگی کے آخری سانس تک آپ بچے کی آخری اُمید ہیں ۔